رپورٹ کے مطابق فلسطینی ٹیلی ویژن و ریڈیو کارپوریشن کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج ، پولیس اور دوسرے اداروں کی جانب سے فلسطینی صحافیوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں روز کا معمول ہیں۔ کئی بار فلسطینی ابلاغٰ اور اشاعتی اداروں کو نوٹس بھیجے جاتے ہیں اور انہیں بند کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
مارچ کے دوران اسرائیلی فوج نے فلسطینی صحافیوں، ذرائع ابلاغ سے وابستہ کارکنوں کو اور ابلاغی اداروں کو ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس دوران صہیونی فوج کی وحشیانہ کارروائیوں کے نتیجے میں اپنے پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران گولیاں مار کر ایک صحافی کو شہید کردیا گیا جب کہ جارحیت میں متعدد فلسطینی صحافی زخمی ہوئے اور 7 صحافیوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈالا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مارچ کے دوران اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 22 سالہ صحافی ایاد عمر سجدیہ نے بیت المقدس میں جام شہادت نوش کیا۔ اس کے علاوہ سات فلسطینی صحافیوں سامی الساعی، فاروق علیات، محمد عمرو، شبیب شبیب، ابراہیم جرادات، ھشام ابو شقرہ اور مصعب شقفہ کو حراست میں لے کرجیلوں میں ڈال دیا گیا۔
فلسطین میں صحافتی حقوق کی پامالیوں میں پہلے سے گرفتار فلسطینی صحافی احمد البیتاوی کو باقاعدہ قید کی سزا سنایا جانا بھی شامل ہے۔
مارچ میں اسرائیلی عدالتوں سے سات فلسطینی صحافیوں کی انتظامی قید میں توسیع کی گئی۔ فلسطینی ٹی وی چینلوں الاقصیٰ اور فلسطین الیوم کی نشریات بند کرنے کی دھمکی دی گئی۔
