(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) کل 30 مارچ کوچالیس سال قبل اسرائیل کے فلسطینی علاقوں پر ناجائز قبضے خلاف ملک بھرمیں ’یوم الارض‘ منایا گیا۔ اس موقع پر مختلف سیاسی اور سماجی تنظیموں اور عوامی حلقوں کی جانب سے یوم الارض کی مناسبت سے مختلف تقریبات منعقد کیں۔
رپورٹ کے مطابق ’یوم الارض‘ کی مناسبت فلسطینی فن کارں نے بھی اپنے فن کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع ’’بریگیڈ‘‘ گراؤنڈ میں ایک طویل علامتی دیوار ڈیزائن کی جس پر یوم الارض کی مناسبت سے خاکے اور تصاویر کی مدد سے عالمی میڈیا کی توجہ اس جانب مبذول کرائی گئی۔رپورٹ کے مطابق فلسطینی فن کاروں اورمصوروں نے بریگیڈ گراؤنڈ میں 2030 لمبی اور 110 میٹر چوڑی دیوار بنائی گئی۔ یہ اپنی نوعیت کی منفرد دیوار ہے جسے گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا حصہ ہونا چاہیے کیونکہ اس سےقبل اس نوعیت کی دیوار صرف 130 میٹر طویل بنائی گئی تھی۔ اس دیوار نے خاکوں کی شکل میں ڈیزائن کی گئی دیواروں کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔
فلسطینی فن کاروں کا کہنا ہے کہ ان کی ڈیزائن کردہ دیوار یوم الارض کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ دیوار اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ فلسطینی قوم کس طرح اپنے ملک اور وطن کی مٹی سے محبت کرتی ہے۔ اس دیوار کے ذریعے فلسطینی قوم کی قربانیوں کی بھی عکاسی کی گئی ہے۔
فن کاروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک علامتی دیوار بنا کر فن کی شکل میں مزاحمت کی ایک نئی طرح ڈالی ہے۔ جہاں ایک طرف فلسطینی مجاھدین آزادی کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں وہیں فلسطینی فن کاروں نے بھی اپنے فن اور مصوری کے ذریعے ان کی قربانیوں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔
خیال رہے کہ مقبوضہ فلسطین میں 30 مارچ سنہ 1976ء کو الجلیل شہرمیں یہودی فوج اور انتہا پسند صہیونیوں کی منظم میں چھ فلسطینی شہید کرکے ان کی املاک قبضے میں لے لی تھیں۔ فلسطینی تیس مارچ سنہ 1976ء کے بعد اس دن کو ” یوم الارض ” پر ہرسال باقاعدہ گی سے مناتے ہیں۔ فلسطین کے مقبوضہ شہروں میں اس دن کو یوم سیاہ کے طورپر منایا جاتا ہے اور جلسے جلوس اور ریلیاں نکالی جاتی ہیں۔ سنہ 1948 ء کے بعد سے 1972 ء تک صہیونی ریاست کی منظم توسیع پسندی کے نتیجے میں فلسطینیوں کی دو ملین آبادی پرغاصبانہ قبضہ کیا۔
