(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطینی اتھارٹی کی جیلوں قید سیاسی کارکنوں کے ساتھ ساتھ سات انجینیر بھی قید کیے گئے ہیں۔ زیرحراست انجینیرعباس ملیشیا کی جیلوں میں چارماہ سے پابند سلاسل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مٖغربی کنارے کے طولکرم شہر سے تعلق رکھنے والے انجینیر علاء الاعرج کو عباس ملیشیا نے 11 دسمبر 2015 ء کو حراست میں لیا تھا۔ ان پر کسی قسم کا الزام بھی عائد نہیں کیا گیا۔ اسی شہر کے ایک دوسرے انجینیر عبدالرحیم صعیدی کو یکم دسمبر کو حراست میں لیا گیا۔ انہوں نے اپنی بلا جواز اسیری کے خلاف بھوک ہڑتال بھی کی مگر عباس ملیشیانے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے سے انکار کردیا۔ان کےعلاوہ 10 دسمبر 2015 ء کو انجینیر مصطفیٰ عبداللہ کو حراست میں لیا گیا۔ انہیں سیاسی انتقام کی بھینٹ چڑھایا گیا ہے۔ ایھاب عاشور اورزھدی قواریق بھی فلسطینی اتھارٹی کی جیلوں میں پابند سلاسل ہیں۔ یہ دونوں بھی پیشے کے اعتبار سے انجینیر ہیں۔ ان پر اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے طلباء ونگ اسلامک بلاک میں سرگرم ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ دو ہفتے قبل عباس ملیشیا نے الخلیل شہر میں قائم پولیٹینیک یونیورسٹی میں انجینیرنگ کے شعبے کے طالب علم عبدالرحیم ابو عرقوب کو بھی حراست میں لے لیا تھا۔
