رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی نیکولائے میلاڈینوف نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جمعرات کے روز اسرائیلی فوجیوں نے غرب اردن کے جنوبی شہر الخلیل میں دو فلسطینی نوجوانوں کو بے دردی سے گولیاں مار کر شہید کیا ہے وہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ صہیونی فورسز فلسطینیوں کے ماورائے قانون اور ماورائے عدالت قتل کی مرتکب ہور ہی ہیں۔
خیال رہے کہ جمعرات کے روز اسرائیلی فوجیوں نے الخلیل شہر کی تل ارمیدہ کالونی میں دو فلسطینی نوجوانوں کو گولیاں مار کر شہید کردیا تھا۔ دونوں فلسطینی شہری کئی گھنٹے تک سڑک پرزندگی اور موت کی حالت میں تڑپتے رہے مگردرندہ صفت یہودی فوجیوں نے امدادی اداروں کو انہیں اٹھانے اور طبی امداد فراہم کرنے کی اجازت تک نہیں دی۔
اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کا کہنا تھا کہ غرب اردن میں اسرائیلی فوج کی جانب سے جس بے رحمی کے ساتھ فلسطینیوں کو شہید کیا جا رہا ہے اس سے فلسطینیوں کے غم وغصہ میں شدید اضافہ ہو رہا ہے۔
نیکولائے ملاڈینوف نے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ الخلیل شہر میں دو روز قبل دو فلسطینی نوجوانوں کو بے دردی سے قتل کیے جانے کے واقعے کی تحقیقات کرائے۔
واضح رہے کہ اسرائیل کی انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’’بتسلیم‘‘ نے ویڈیو فوٹیج جاری کی ہےجس میں تل ارمیدہ کے مقام پر فلسطینی نوجوانوں کو گولیاں مارنے کے بعد انہیں سڑک پر بے یارو مدد گار تڑپتے دکھایا گیا ہے۔ دونوں فلسطینی نوجوان عبدالفتاح الشریف اور اس کے ساتھی کو سروں میں گولیاں ماری گئی تھیں۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ فلسطینی لڑکے چاقو کے ذریعے فوجیوں پرحملے کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔
