• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home عالمی خبریں

صہیونی حکومت نے قبلہ اوّل کے سامنے’یہودی آڈیٹوریم‘ کےقیام کی منظوری دےدی

جمعہ 25-03-2016
in عالمی خبریں
0
0Pala0771
0
SHARES
3
VIEWS

(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی حکومت نے فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس کے سلوان قصبے میں قبلہ اوّل کے بالمقابل ایک آڈیٹوریم کے قیام کی منظوری دے دی ہے جس پر فلسطینی حلقوں کی جانب سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکومت کی طرف سے بدھ کی شام ایک بیان جاری کیا گیا جس میں بتایا گیا ہے کہ سلوان قصبے کی وادی حلوہ کالونی میں مسجد اقصیٰ کے بالکل سامنے ’کیدم ۔ عیرڈیوڈ آڈیٹوریم‘ کے قیام کے لیے بیت المقدس میں یہودی توسیع پسندی میں سرگرم ’العاد‘ نامی تنظیم کی درخواست منظور کرلی گئی ہے جس کے بعد مذکورہ آڈیٹوریم کے قیام کی منظوری دی گئی ہے۔

وادی حلوہ انفارمیشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں قبلہ اوّل کے سامنے یہودی آڈیٹوریم کے قیام کے حوالے سے تفصیلات جاری کی ہیں اور بتایا ہے کہ بدھ کے روز اسرائیلی کابینہ نے عجلت میں اس آڈیٹوریم کے قیام کی منظوری دی۔

قبل ازیں بیت المقدس کی ایک مقامی کونسل نے بھی اپنے اجلاس میں مذکورہ متنازع آڈیٹوریم کے قیام کی منظوری دی۔ اس موقع پر وادی حلوہ کے مقامی فلسطینیوں کو بھی مدعوکیا گیا تھا مگر اجلاس کے دوران نہ تو کسی عربی مترجم کی خدمات فراہم کی گئیں اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ عبرانی میں کون سا فیصلہ کیا گیا ہے۔ صہیونی حکومت کے اس حربے کے خلاف مقامی فلسطینی نمائندہ وفد اجلاس سے واک آؤٹ کرگیا۔ صہیونی علاقائی کونسل کی جانب سے فلسطینیوں کے احتجاج کو نظر انداز کرتے ہوئے وادی حلوی کے داخلی راستے پر مسجد اقصیٰ کے سامنے یہودی آڈیٹوریم کے قیام کی منظٖوری دی گئی۔

مقامی فلسطینی قانون دان سامی ارشید نے میڈیا کو بتایا کہ ’’کیدم‘‘ کے عنوان سے آڈیٹوریم کے منصوبے کے خلاف فلسطینی شہریوں کی جانب سے کئی درخواستیں دی گئی تھیں۔ اس سے قبل سنہ 2014 ء میں جب اسرائیل کی مقامی ضلعی کمیٹی نے اس منصوبے کی منظوری دی تب بھی فلسطینی شہریوں کی اس کی بھرپور مخالفت کرتے ہوئے اس پرنظرثانی کا مطالبہ کیا تھا۔ فلسطینیوں کی درخواستوں کے بعد یہودی حکام نے فلسطینیوں کو بھی مشورے میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا تھا مگر اس کے باوجود فلسطینیوں کا مطالبہ نہیں سنا گیا۔

سامی ارشید کا کہنا ہے کہ وادی حلوہ میں قبلہ اوّل کے سامنے اسرائیل کے مجوزہ آڈیٹوریم کے لیے 6 منزلہ عمارت تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ آڈیٹوریم 12 ہزار مربع میٹر علاقے پر بنایا جائے گا۔ اس آڈیٹوریم میں کئی کانفرنس ہال، کار پارکنگ، اسٹڈی روم اور یہودی آباد کاروں اور سیاحوں کے لیے خصوصی کمرے تعمیر کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ العاد نامی تنظیم جو اس منصوبے کی ماسٹر مائنڈ اور نگران ہے کے دفاتر اور تجارتی مراکز بھی اس عمارت کا حصہ ہوں گے۔

Tags: israelipalestineThirdIntifadaUnitedForPalestineصہیونی حکومت نے قبلہ اوّل کے سامنے’یہودی آڈیٹوریم‘ کےقیام کی منظوری دےدی
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.