رپورٹ کے مطابق مسجد اقصیٰ کی نگراں کمیٹی کے ڈائریکٹر الشیخ عمرالکسوانی نے بتایا کہ اسرائیلی حکام کی جانب سے قبلہ اوّل کی سرپرستی کرنے والے اردنی محکمہ اوقاف کو ایک نیا نوٹس ارسال کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگلے تین دن تک مسجد اقصیٰ میں چالیس سال یا اس سےزائد عمر کے افراد کو داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔ چالیس سال سےکم عمر افراد قبلہ اوّل میں داخل نہیں ہوسکیں گے۔ اسی طرح قبلہ اوّل میں نماز کے لیے آنے والی فلسطینی خواتین جن کی عمریں پچاس سال یا اس سے زیادہ ہوں گی انہیں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی جب کہ پچاس سال سے کم عمر خواتین کو وہاں آنے سے سختی سے روکا جائے گا۔ اس کے علاوہ مسجد میں داخل ہونے والی تمام خواتین اور مرد حضرات کو اپنے شناختی کارڈ سرائیلی سیکیورٹی فورسز کے پاس جمع کرانا پڑیں گے۔
الشیخ عمر الکسوانی نے بتایا کہ اسرائیلی حکام کی جانب سے قبلہ اوّل میں فلسطینیوں کے داخلے پرعائد تازہ پابندیوں یہودیوں کے ’’عید المساخر‘‘ یا ’’البوریم‘‘ نامی مذہبی تہوار کی آر میں عائد کی گئی ہیں۔ مذہبی تہوار کی آڑ میں دراصل صہیونی حکام فلسطینیوں کو قبلہ اوّل میں آنے اور وہاں نماز کی ادائیگی سے دور رکھنے کی سازش کررہے ہیں۔
فلسطینی عہدیدار نے اسرائیلی حکام کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کو غیرقانونی اور غیراخلاقی قراردیتے ہوئے فلسطینیوں کے مذہبی معاملات میں کھلی مداخلت قرار دیا۔
ادھر اسرائیلی پولیس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ داخلی سلامتی کے وزیر نے یہودیوں کی ’’عید المساخر‘‘ کی تین روزہ تقریبات کے دوران بیت المقدس اور مغربی کنارے میں سیکیورٹی کی تعداد بڑھانے کا حکم دیا ہے جس کے بعد دونوں علاقوں میں بڑی تعداد میں پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
