رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ میں سعودی سفیر فیصل طراد نے انسانی حقوق کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی ریاست 60 سال سے نہتے فلسطینیوں پر بدترین مظالم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے اور عالمی برادری فلسطینیوں کو صہیونیوں کے مظالم سے نجات دلانے اوران کے آزادی کے حق کو تسلیم کرانے میں آج تک ناکام ہے۔
سعودی سفیرنے کہا کہ گذشتہ ساٹھ برسوں سے فلسطینی قوم ایک غاصب ریاست کے ہاتھوں بدترین مظالم کا سامنا کررہی ہے۔ نہایت افسوس کی بات تو یہ ہے کہ عالمی برادری، یورپی یونین اور دوسرے مغربی ممالک اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل سات پرعمل درآمد کرتے ہوئے فلسطینیوں کو ان کے حقوق دلانے اور اسرائیلی مظالم ختم کرانے میں ناکام رہے ہیں۔
فیصل طراد نے کہا کہ محض تقریریں کرنے سے فلسطینیوں کے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔ عالمی برادری مظلوم فلسطینیوں کو ان کے حقوق دلانے اور مظالم سے نجات دلانے کے لیے فوری عملی اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی جانب سے فلسطینیوں کے دفاع اور تحفظ میں کوتاہی اسرائیل کو انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا نیا موقع فراہم کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ امربھی نہایت افسوسناک ہے کہ پوری دنیا اسرائیل کے حوالے سے دوہرے معیار کا شکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کے دہرے معیار کے نتیجے میں فلسطینی قوم بدترین مظالم کا سامنا کررہی ہے۔ عالمی لاپرواہی کے نتیجے میں فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت میں منظور کی جانے والی تمام قراردادیں بھی بے اثر ہوگئی ہیں اور یوں اسرائیل کو اپنے مظالم جاری رکھنے کا سند جوازمہیا کیا گیا ہے۔
