(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق فلسطین کے اسرائیلی کنیسٹ میں گذشتہ اتوار کے روز فلسطینی مزاحمت کاروں کو پھانسی دیے جانے سے متعلق زیربحث لائے گئے متنازع مسودہ قانون پر بحث آئندہ ماہ تک ملتوی کردی گئی ہے۔
اسرائیل کے عبرانی زبان میں شائع ہونے والے اخبار نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ کنیسٹ نے فلسطینی مزاحمت کاروں کو’’دہشت گردی‘‘ کے الزام میں سزائے موت دیے جانے سے متعلق مسودہ قانون پر بحث اپریل تک موخر کردی گئی ہے۔خیال رہے کہ گذشتہ اتوار کو اسرائیلی پارلیمنٹ میں’’اسرائیل بیتنا‘‘ نامی شدت پسند مذہبی سیاسی جماعت کی جانب سے ایک مسودہ قانون پیش کیا گیا تھا جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پارلیمنٹ اسرائیلی فوجیوں پرحملوں میں ملوث فلسطینیوں کو سزائے موت دینے کی منظوری دے۔
پارلیمنٹ میں اس مسودہ قانون پرمختصر بحث کے بعد اسے آئندہ ماہ کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے۔ آئندہ ماہ اس قانون پرہونے والی رائے شماری میں اگردو تہائی اکثریت نے قانون کی حمایت کی تو اسے نافذ العمل قرار دیا جائے گا۔
خیال رہے کہ اسرائیل میں یہ قانون ایک ایسے وقت میں سامنے لایا گیا ہے جب دوسری جانب فلسطین کے مختلف شہروں میں گذشتہ برس اکتوبر کے بعد سے اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کے خلاف تحریک انتفاضہ جاری ہے۔اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں اب تک دو سو سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جب کہ سیکڑوں فلسطینیوں کو فدائی کارروائیوں کی منصوبہ بندی یا یہودیوں پر حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔
