(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین میں ’قدس پریس‘ کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعدادو شمار میں بتایا ہے کہ رواں ماہ مارچ کے پہلے دو عشروں کے دوران مجموعی طورپر 700 یہودی آباد کاروں نے قبلہ اوّل میں داخل ہوکرمذہبی رسومات کی ادائیگی کی آڑ میں مقدس مقام کی بے حرمتی کی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مارچ کے دوسرے عشرے میں 300 یہودی آباد کاروں نے مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کا ارتکاب کیا جب کہ مجموعی طورپر گذشتہ بیس ایام میں سات سو یہودی قبلہ اوّل میں داخل ہوئے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قبلہ اوّل میں داخل ہونے، غل غپاڑہ کرنے اور مذہبی رسومات اور تلمودی تعلیمات کی روشنی میں عبادت کی آڑ میں جہاں سول یہودیوں کی بڑی تعداد داخل ہوتی رہی وہیں اسرائیلی خفیہ اداروں، فوج اور پولیس کے سیکڑوں اہلکار بھی مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کے مرتکب ہوتے رہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قبلہ اوّل میں داخل ہونے والے یہودی آباد کاروں کو اسرائیلی فوج اور پولیس کی جانب سے فول پروف سیکیورٹی مہیا کی جاتی ہے۔ یہودیوں کو مسجد اقصیٰ کے ’’باب المغاربہ[مراکشی دروازے] سے داخل کیا جاتا ہے جب کہ ’’با السلسلہ‘‘ سے انہیں باہر نکالا جاتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جہاں ایک طرف یہودی آباد کاروں کو قبلہ اوّل میں داخل ہونے کی نہ صرف کھلی چھٹی دی جاتی ہے وہیں پر فلسطینی شہریوں اور خواتین کو قبلہ اوّل میں نماز کی ادائیگی سے روکا جاتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی پولیس نے 50 فلسطینی خواتین کو سات ماہ سے قبلہ اوّل میں داخل ہونے سے روک رکھا ہے جب کہ پانچ مرد فلسطینی شہریوں کے قبلہ اوّل میں داخلے پرپابندی عائد کی گئی ہے۔
