اردنی وزیر اطلاعات محمد المومنی نے ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو کے دوران کہا کہ بیت المقدس، مسجد اقصیٰ، اسلامی مقدسات اور مسیحی برادری کے مقدس مقامات کے حوالےسے اردن کا موقف واضح ہے۔ ہم القدس شریف اور مسجد اقصیٰ کے تقدس کو سرخ لکیر سمجھتے ہیں۔ اردنی حکومت بیت المقدس اور وہاں موجود تمام مقدس مقامات کےدفاع کے لیے ہرممکن کوششیں جاری رکھے گا۔
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی کارروائیوں اور یہودیوں کی آمدو رفت پرنظر رکھنے کی غرض سے خفیہ کیمروں کی تنصیب کے پلان پربات کرتے ہوئے محمد المومنی کا کہنا تھا کہ کیمروں کی تنصیب کا مقصد پوری دنیا بالخصوص عالم اسلام کو قبلہ اول میں یہودیوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے آگاہ رکھنا ہے۔ وہاں ہونے والی یہودیوں کی ہر حرکت کو انٹرنیٹ کے ذریعے پوری دنیا تک پہنچایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ مسجد اقصیٰ میں کیمروں کی تنصیب کا کام جلد شروع ہوجائے گا۔ کیمروں کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک آپریشن کنٹرول روم قائم کیا جائے گا جہاں سے قبلہ اول اور اسے متصل 144 دونم کے رقبے پرہونے والی ہرنقل وحرکت کا پتا چلایا جاسکے گا۔
محمد المومنی کا کہنا تھا کہ اصل مقصد قبلہ اول کےحوالے سے عالم اسلام کو اسرائیل کے گمراہ کن نظریات سے متعلق آگاہ کرنا اور صہیونیوں کے منفی پروپیگنڈے کا توڑ کرنا ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ برس فلسطینی اتھارٹی، اسرائیل امریکا اور اردن کے درمیان ہونے والی بات چیت میں مسجد اقصیٰ میں یہودیوں کی آمد ورفت جاننے کے لیے خفیہ کیمرے لگانے کا فیصلہ کیا گیا تما مگر کیمروں کے مقامات کے تعین میں اردن اور اسرائیل کےدرمیان اختلافات رہے ہیں۔ اسرائیل ان مقامات پرکیمرے لگوانا چاہتا ہے جہاں مسلمانوں کی آمد ورفت ہوتی ہے اور وہ ایک سازش کے تحت یہودیوں کی آمد ورفت والے مقامات اور راستوں کو کیمروں کی آنکھ سے بچا کراپنی سازشوں کو جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔
