(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین میں انسانی حقوق کی تنظیموں کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق حال ہی میں ’بتاح تکفا‘ نامی حراستی مرکز میں درندہ صفت اسرائیلی تفتیش کاروں نے زبردستی اعتراف جرم کرانے کے لیے ایک فلسطینی شہری کو ہولناک تشدد کا نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں اس کی حالت تشویشناک ہوچکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق فلسطینی محکمہ امور اسیران کی جانب سےجاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’’بتاح تکفا‘‘ نامی حراستی مرکز میں صہیونی تفتیش کاروں نے حال ہی میں عدنان عبدالرزاق یاسین عیاد نامی ایک شہری سے تفتیش شروع کی۔ دوران تفتیش ملزم سے اقرارجرم کے لیے بار بار اس کا سر دیوار پر مارا جاتا رہا جس کےنتیجے میں شدت تکلیف سے وہ بے ہوش ہوگیا۔
رپورٹ کے مطابق فلسطینی شہری کو اس قدر تشدد کا نشانہ بنایا کہ اس کےجسم سے خون کے فوارے پھوٹ پڑے۔
فلسطینی محکمہ امور اسیران کے مندوب نسین ابو غوش کاکہنا ہے کہ عبدالرزاق نسیم کی حالت تشویشناک ہونے کےباوجود اسے بتاح تکفا نامی حراستی مرکز میں مزید آٹھ دن کے لیے پولیس کی تحویل میں دے دیا گیا ہے۔
