لندن میں قائم ’’عرب آرگنائزیشن برائے انسانی حقوق‘‘ کی مرتب کردہ
رپورٹ میں کہا گیاہے کہ فلسطینی سیکیورٹی ادارے دانستہ طورپر فلسطینی شہریوں حتیٰ کہ سیاسی کارکنوں ،خواتین اور بچوں کو حراست میں لینے کے بعد انہیں اذیتیں دیتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تنظیم نے سنہ 2015 ء کے دوران فلسطین میں فیلڈ ورک کے دوران فلسطینی سیکیورٹی اداروں کی کارروائیوں کے حقائق اور اعدادو شمار جمع کیے ہیں۔ جنوری 2015 ء اور دسمبر 2015 ء کے دوران فلسطینی صدر محمود عباس کے زیرانتظام سیکیورٹی اداروں نے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے 1392 فلسطینیوں کو حراست میں لیا اور دوران حراست انہیں ہولناک تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔
مزاحمت کی آڑ میں گرفتاریاں
رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی جیلوں میں اس وقت بھی 22 فلسطینی ایسے پابند سلاسل ہیں جن پراسرائیل کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے اور مزاحمتی کارروائیوں کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ مجموعی طورپر اسرائیل کے خلاف مزاحمت کی آڑ میں ایک سال کے دوران 323 فلسطینیوں کو حراست میں لیا گیا۔ پچھلے سال جون میں 273 شہریوں کو حراست میں لیا گیا اور ان سے ظالمانہ انداز میں پوچھ تاچھ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق عباس ملیشیا کے ہاتھوں گذشتہ برس 25 خواتین، 27 بچوں، 68 صحافیوں، 41 اساتذہ، 422 طلبا اور اسرائیلی جیلوں میں قید کے بعد رہا ہونے والے 969 فلسطینی شہریوں کو حراست میں لیا گیا۔
عباس ملیشیا کے کریک ڈاؤن میں الخلیل شہر سر فہرست رہا جہاں سے 462 فلسطینی شہری حراست میں لیے گئے۔ نابلس سے 246 ، رام اللہ اور البیرہ سے 208 ، طولکرم سے 173 ، بیت لحم سے 153 ، قلقیلیہ سے 151 ، جنین سے 125 ، سلفیت سے 72 ، طوباس سے 70 ، بیت المقدس سے 32 اور اریحا سے 23 فلسطینی رام اللہ اتھارٹی کی جیلوں میں ڈالے گئے۔
قیدیوں پر وحشیانہ تشدد
انسانی حقوق کی تنظیم نے اپنی رپورٹ میں نہ صرف فلسطینی پولیس کے ہاتھوں گرفتارہونے والے شہریوں کی تعداد بیان کی ہے بلکہ دوران حراست ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کو بھی تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غرب اردن میں فلسطینی اتھارٹی کےسیکیورٹی اداروں کے زیرانتظام درجنوں حراستی مراکز ہیں جہاں ڈالے گئے فلسطینیوں پر وحشیانہ تشدد کیا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس عباس ملیشیا کے عقوبت خانوں میں قیدیوں کو اذیتیں دینے کے 37 واقعات کا اندراج کیا گیا۔ یہ تعداد سنہ 2014 ء کی نسبت دوگنا ہے۔
دوران حراست قیدیوں کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے جاتے ہیں اور انہیں تشدد کے کئی مراحل سے گذارا جاتا ہے۔ بجلی کے جھٹکے، کوڑوں سے مارنے، دوران تفتیش قیدیوں کو لاتوں اور گھونسوں سے تشدد کا نشانہ بنانے کے مکروہ حربے عام ہیں۔
قیدیوں کو جسمانی تشدد کے ساتھ ساتھ ذہنی اور نفسیاتی تشدد کا بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔ عباس ملیشیا کے وحشیانہ تشدد کے خلاف فلسطینی قیدی طویل بھوک ہڑتال بھی کرچکے ہیں۔ بعض قیدیوں نے عباس ملیشیا کی غنڈہ گردی کے خلاف 100 دن تک مسلسل بھوک ہڑتال کرکے اپنے مطالبات منوائے۔
قیدیوں پر تشدد کے سب سے زیادہ واقعات میں ڈیفنس فورس کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ گذشتہ برس ڈیفینس فورس کے اہلکاروں کے قیدیوں پر تشدد کے 949 واقعات سامنے آئے۔ نیشنل سیکیورٹی فورس کے ہاتھوں تشدد کے 740 ، ملٹری انٹیلی جنس کے 17 ، اسپیشل پولیس کے 6 اور ایوان صدر کی محافظ فورس کے ہاتھوں تشدد کے تین واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
