(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کے سیکیورٹی اداروں نے بدترین ریاستی تشدد کے مظاہر کے باوجود اعتراف کیا ہے کہ وہ فلسطینی شہریوں کی جانب سے یہودی املاک اور فوجیوں پر سنگ باری کے واقعات کی روک تھام میں بری طرح ناکام ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے یہودی فوجیوں کی جانب سے جاری کردہ بیانات نقل کیے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ وہ فلسطینی شہریوں کی سنگ باری کے سامنے عاجز آگئے ہیں۔ تمام ترکوششوں اور سختی کے باوجود بیت المقدس اور غرب اردن میں یہودی آباد کار، ان کی گاڑیاں، دیگر املاک اور فوجی فلسطینیوں کی سنگ باری سے غیرمحفوظ ہیں۔رپورٹ میں بتایا ہے کہ بیت المقدس میں یہودی فوجی، آباد کار اور ان کی گاڑیاں چوبیس گھنٹے کی بنیاد پر فلسطینیوں کی سنگ باری کا سامناکررہی ہیں اور سیکیورٹٰی ادارےان کے سامنے مکمل طورپر بے بس ہیں۔
خیال رہے کہ حال ہی میں مشرقی قلقیلیہ میں اسرائیلیوں کی دو مسافر بسوں پر فلسطینیوں نے سنگ باری کی تھی جس کے نتیجے میں بسوں کے شیشے ٹوٹ گئے تھے۔ سنگ باری سے خوف زدہ یہودی بسوں سے اترکر بھاگ گئے تھے۔ فلسطین میں یہودی تنصیبات پرسنگ باری کے واقعات میں گذشتہ برس اکتوبر کے بعد سے اضافہ ہوگیا ہے۔ گذشتہ پانچ ماہ میں فلسطینیوں کی تحریک انتفاضہ القدس کے دوران فلسطینی شہریوں نے غاصب صہیونیوں خلاف چاقو کے حملوں اور سنگ باری کے واقعات میں اضافہ کردیا ہے،جس پرصہیونی ریاست اور اس کے نام نہاد سیکیورٹی ادارے سخت پریشان ہیں۔
