رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر برائے ٹرانسپورٹ و نقل وحمل یسرائیل کاٹز نے اپنے ایک اشتعال انگیز ترغیبی بیان میں کہا ہے کہ میں حکومت اور پارلیمنٹ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ فلسطینی فدائی حملہ آوروں کے حوالے سے قانون مزید سخت کرتے ہوئے حملہ آوروں کے خاندانوں کو غرب اردن اور بیت المقدس سے نکال کر شام یا غزہ بے دخل کردیں۔
اسرائیلی وزیرکا کہنا تھا کہ میں جلد ہی پارلیمنٹ کے تمام ارکان سے فردا فردا بھی اس حوالے سے بات کروں گا۔ اس کے علاوہ اپوزیشن کے نمائندوں سے بھی ملاقات میں قانون سازی کے لیے بات چیت کی جائے گی۔
یسرائیل کاٹز کا کہنا تھا کہ ہمیں ایک ایسے قانون کی ضرورت ہے جس کے تحت ان تمام فلسطینیوں کو ملک بدر کردیا جائے جن کے بچے یہودی آباد کاروں یا فورسز پر حملوں میں ملوث ہیں۔
خیال رہے کہ فلسطین میں پچھلے سال اکتوبر کےبعد سے جاری تحریک انتفاضہ کے دوران اب تک دو سو کے قریب فلسطینی شہید کیے جا چکے ہیں۔ بیشتر شہداء پرالزام ہے کہ انہیں یہودی آباد کاروں اور فوجیوں پر حملوں کی کوشش میں مارا گیا، شہید کیے گئے فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
