(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کی ایک سول عدالت نے انتہا پسند یہودی ربی ’یہودا گلیک‘ کو مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے اور تلمودی تعلیمات کے مطابق مذہبی رسومات کی ادائیگی کی آڑ میں مذہبی اشتعال انگیزی پھیلانے کی اجازت دینے پر فلسطین میں شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مذہبی، سماجی اور سیاسی شخصیات نے یہودا گلیک کے قبلہ اوّل میں داخلے پرعائد پابندی اٹھائے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے مسلمانوں کے تیسرے مقدس مقام کے کھلے عام بے حرمتی کی سند جواز مہیا کرنے کی گھناؤنی سازش قرار دیا ہے۔فلسطینی شخصیات کی جانب سے جاری ہونے والے رد عمل میں کہا گیا ہے کہ یہودا گلیک فلسطینیوں اور مسلمانوں کے مقدس مقامات کے حوالے سے انتہا پسندانہ نظریات رکھنے کے باعث ماضی میں ایک متنازع شخصیت قرار دیا جا چکا ہے۔ اب اسرائیل کی جانب سے گلیک کو قبلہ اوّل میں داخل ہونے کی اجازت دینا یہودی پولیس اور دیگر انتہا پسندوں کو مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کی اجازت دینے کے مترادف ہے۔ فلسطینی قوم اسرائیلی عدالت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے یہودی مذہبی پیشوا کے مسلمانوں کے مذہبی مقام میں داخلے کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
فلسطینی مجلس اوقاف کے چیئرمین الشیخ عبدالعظیم سلھب نے کیوپریس سے بات کرتے ہوئے یہودا گلیک کے قبلہ اوّل میں داخلے پرعائد پابندی اٹھانے کا فیصلہ مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ یہودا گلیک کو قبلہ اوّل میں داخل ہونے کی اجازت دینے کے سنگین نتائج سامنے آسکے ہیں جس کے تمام نتائج کا ذمہ دار اسرائیل ہوگا۔
الشیخ سلھب کا کہنا تھا کہ یہودا گلیک کو قبلہ اوّل میں داخل ہونے کی اجازت دینا ظالمانہ فیصلہ، فلسطینیوں کے مذہبی مقامات کی بے حرمتی اور فلسطینیوں کے خلاف مذہبی اشتعال انگیزی پھیلانے کی کھلی سازش ہے۔
فلسطین کی سپریم اسلامی کونسل کے سربراہ الشیخ عکرمہ صبری نے اپنے مذمتی بیان میں کہا کہ یہودا گلیک کو قبلہ اوّل میں داخل ہونے کی اجازت دے کر اسرائیل کے تمام انتہا پسند یہودیوں کو مقدس مقام کی بے حرمتی کی راہ ہموار کی گئی ہے۔ اسرائیلی عدالت کے اس فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ صہیونی عدالتیں دانستہ طورپر فلسطینیوں کے مقدس مقامات کو نشانہ بنانے پرتلی ہوئی ہیں۔
سابق فلسطینی وزیر حاتم عبدالقادر، مسجد اقصیٰ کے ڈائریکٹر الشیخ عمر الکسوانی اور فلسطین میں اسلامی قبرستان کے دفاع کے لیے قائم کردہ کمیٹی کے چیئرمین الحاج مصطفیٰ ابو زھرہ نے بھی یہودا گلیک کو قبلہ اوّل میں داخل ہونے کی اجازت دینے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اسرائیلی عدالت کی مذہبی جارحیت قرار دیا۔
خیال رہے کہ ڈیڑھ سال پیشتر یہودا گلیک پر بیت المقدس میں ہونے والے قاتلانہ حملے کے بعد اس کے قبلہ اوّل کے قریب آنے پر پابندی عائد کردی تھی مگر یہودی تنظیموں نے اس پابندی کو عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے گلیک کے قبلہ اوّل میں اشتعال انگیزی پھیلانے کی حمایت کی مہم شروع کر رکھی تھی۔
