(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کے اسکولوں کے اساتذہ کی ماہانہ تنخواہوں اور الائونسز کی عدم ادائیگی اور اساتذہ کے سرکاری اسکیل میں اضافے کا سلسلہ روکے جانے کے خلاف اساتذہ ایک بار پھراحتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پرآگئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مغربی کنارے میں اساتذہ یونین کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں فلسطینی اتھارٹی کے وزیر تعلیم صبری صیدم کے ایک بیان پرسخت برہمی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اساتذہ آج اتوار کو فلسطینی اتھارٹی کے متکبرانہ رویے کے خلاف دوبارہ احتجاج اور ہڑتال شروع کر رہے ہیں۔خیال رہے کہ فلسطین میں دو ہفتے قبل اساتذہ نے تنخواہوں کی عدم دائیگی اور الاوئنس سمیت دیگر واجبات ادا نہ کرنے کے خلاف بھوک ہڑتال اور دھرنے شروع کردیے تھے۔ بعد ازاں فلسطینی وزیرتعلیم نے اساتذہ سے مذاکرات کے بعد انہیں تمام مطالبات پورے کرنے کا یقین دلایا تھا جس کے بعد اساتذہ ہڑتالی ختم کردی تھی۔
گذشتہ روز صبری صیدم کا ایک نیا بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا کہ اساتذہ کو تنخواہیں ادا کی جائیں گی مگر دیگر اضافی الاؤنسز اس سال کے آخر تک ادا کیے جا سکیں گے۔ انہوں نے اپنے حقوق کے لیے جدو جہد کرنے والے اساتذہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بعض اساتذہ دانستہ طورپر تعلیمی اور تدریسی امور میں رکاوٹیں کھڑی کررہے ہیں۔
اساتذہ یونین نے وزیرتعلیم کا بیان مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے پارلیمانی جماعتوں کی تجاویز کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا ہے۔ حالانکہ انہوں نے خود اساتذہ سے مذاکرات میں انہیں ان کے تمام مطالبات فوری پورے کرنے کی یقین دہانی کے بعد ہڑتال ختم کرنے پر مجبور کیا تھا۔
