(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) ماہ فروری کے آخری جمعہ کو 70 ہزار فلسطینی شہریوں نے نماز جمعہ مسجد اقصیٰ میں ادا کی۔ مغربی کنارے، شمالی اور جنوبی فلسطین اور بیت المقدس کے علاوہ غزہ کی پٹی سے بھی 200 شہریوں نے قبلہ اوّل میں نماز جمعہ ادا کی۔
رپورٹ کےمطابق جمعہ کو علی الصباح ہی سے اسرائیلی فوج اور پولیس نے جگہ جگہ ناکے لگا کر فلسطینیوں کی قبلہ اوّل تک رسائی روکنے کے لیے مکروہ ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کردیے تھے۔ نماز جمعہ کے اوقات میں سیکیورٹی کی آڑ میں قبلہ اوّل کے گردو پیش ہزاروں اسرائیلی فوجی، پولیس کے مسلح دستے اور سادہ کپڑوں میں ملبوس اسرائیلی خفیہ اداروں کے اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔جمعہ کے روز غزہ کی پٹی سے دو سو شہری نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے شمالی غزہ کی ایریز گذرگاہ سے گذر کربیت المقدس داخل ہوئے جہاں انہوں نے نماز جمعہ ادا کی۔
نماز جمعہ کی امامت اور خطابت کے فرائض ممتاز عالم دین الشیخ عکرمہ صبری نے انجام دیے۔ جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے الشیخ عکرمہ صبری نے بیت المقدس میں العیزریہ کے مقام پر ابو النوار اسکول کو مسمار کیے جانے کے قابض اسرائیلی حکام کے اقدام کی شدید مذمت کی۔
یہ اسکول بیت المقدس میں عرب شہریوں کے بچوں کے لیے مختص تھا مگرحال ہی میں اسرائیلی پولیس نے بیت المقدس کی شہری انتظامیہ کے حکم پر اسکول کو گرا دیا تھا۔
انہوں نے اپنے خطاب میں اسرائیل میں فلسطینی شہریوں کو انتظامی حراست میں رکھنے کی وحشیانہ پالیسی کی بھی شدید مذمت کی۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ سنہ 1945 ء میں برطانوی سامراج کےدور سے چلے آئے انتظامی حراست کے ظالمانہ قانون پرپابندی عائد کرنے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالے۔
