اسرائیل کے عبرانی اخبار نے اسرائیلی وزیرخزانہ موشے کحلون کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہےکہ تل ابیب نے فلسطینی اتھارٹی کے پچاس لاکھ شیکل ادا کردیے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیلی حکومت نے فلسطینی شہریوں کے لیے اسرائیل میں کام کاج کے لیے پرمٹ جاری کرنے کابھی فیصلہ کیا گیا۔
اسرائیلی وزیرخزانہ کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کو ٹیکسوں کی رقم اس لیے دی گئی ہے تاکہ اسے معاشی بحران سے نکالا جاسکے اور فلسطینی علاقوں میں معیشت کی بہتری کے لیے اقدامات کیے جاسکیں۔
رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ حال ہی میں انہوں نےفلسطینی اتھارٹی کے وزیرخزانہ شکری بشارہ کے ہمراہ ایک اجلاس کے دوران واجبات کی ادئیگی کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ انہوں ںے بتایا کہ فلسطینی وزیر سے ہونے والی بات چیت میں اسرائیل کے خلاف فلسطینی میڈیا میں جاری اشتعال انگیزی کی روک تھام کی جائے۔ اس موقع پر فلسطینی اتھارٹی کے وزیر نے فلسطینی شہریوں کی اسرائیل میں کام کاج کے لیے اجازت نامے جارے کرنے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق فلسطینی وزیر خزانہ کے اس اقدام پر وزیراعظم نیتن یاھو کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔
