رپورٹ کے مطابق حماس اور فتح کے درمیان تازہ کشیدگی تنظیم آزادی فلسطین کی سینٹرل کمیٹی کے سیکرٹری میجر جنرل جبریل الرجوب کا ایک متنازع اور اشتعال انگیز بیان بنا ہے جس میں انہوں نے دھمکی دی تھی کہ وہ غزہ کی پٹی سے نمٹنے کےلیے طاقت کا استعمال کرسکتے ہیں۔
جبرل الرجوب کا کہنا تھا کہ اگر فلسطینیوں کے درمیان مفاہمت اور مصالحت کاعمل آگے نہیں بڑھ رہا ہے تو اس کی ذمہ داری حماس پرعائد ہوتی ہے جو غزہ کی پٹی میں اپنی مرضی کی حکومت بنائے ہوئے ہے اور وہ اپنی اس حکومت کو قائم رکھنے پر مصر ہے۔
مسٹر رجوب نے تصدیق کی کہ دوحہ میں فلسطینی تنظیموں کے درمیان مفاہمتی اجلاس ہورہے ہیں مگرانہوں نے کہا کہ یہ صحیح نہیں کیونکہ حماس مفاہمت کے لیے سنجیدہ نہیں بلکہ قوم میں مزید پھوٹ ڈالنے کی کوشش کررہی ہے۔
جبرل الرجوب کے اس متنازع بیان پرحماس نے شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ان کے بیانات کو نہایت غیرذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔ حماس کے سیاسی شعبے کےدفتر کے میڈیا ایڈوائز طاھر نونو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جبری الرجوب کے غیر ذمہ دارانہ بیانات سے خدشہ ہے کہ فلسطین میں قومی مفاہمت کے لیے جاری بات چیت ایک بار پھر تعطل کا شکار ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں جبریل الرجوب کا موقف تحریک فتح کا سرکاری موقف نہ بنیں۔
طاھر نونو نے تحریک فتح پر زور دیا کہ وہ جبریل الرجوب کے غیرذمہ دارانہ بیان کا نوٹس لیے اور اپنی پوزیشن واضح کرے کہ آیا اس نوعیت کے بیانات کے حوالے سے وہ کیا موقف رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جبریل الرجوب جیسے عناصر فلسطین کےسیاسی اور سماجی دھارے میں صرف انتشار پھیلانے کے لیے سرگرم رہتے ہیں۔
خیال رہے کہ فلسطینی جماعتوں حماس اور فتح کے درمیان قطر کی ثالثی سے صلح کی کوششیں کی جارہی ہیں مگر دونوں جماعتوں کے درمیان بعض امور پر اتفاق رائے نہ ہونے سے مفاہمتی عمل آگے نہیں بڑھ سکا ہے۔
