رپورٹ کے مطابق فلسطین کے ایک سرکردہ سماجی رہنما ماجد عاروری نے اپنے ایک بیان میں اساتذہ ہڑتال کے حوالے سے فلسطینی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم الحمد اللہ اور ان کی حکومت فلسطین میں اساتذہ کی ہڑتال ختم کرانے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔
عاروری کا کہنا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی نے اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں کو فوجی چھاؤنیوں میں تبدیل کرنے کے سوا اور کچھ نہیں کیا۔ اساتذہ تحریک سے خوف زدہ حکومت طاقت کے استعمال کے تمام حربے استعمال کرچکی ہے مگر وہ اساتذہ کے مطالبات پورے کرنے میں بری طرح ناکام ہے۔
رپورٹ کے مطابق منگل کے روز بھی مغربی کنارے کے مختلف شہروں میں اساتذہ نے اپنے حقوق اور مطالبات کے حق میں مظاہرے کیے ہیں۔
خیال رہے کہ حال ہی میں فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے غیرضروری طورپر دسیوں اساتذہ کو نوکریوں سے فارغ کرنے کا اعلان کیا تھا جس پر غرب اردن کے تمام اساتذہ نے اپنی تعلیمی اور تدریسی سرگرمیاں چھوڑ کر احتجاجی تحریک شروع کردی تھی۔ فلسطینی اتھارٹی نے عباس ملیشیا کے ذریعے اساتذہ کی تحریک کچلنے کی مذموم کوششیں کیں مگراساتذہ اس کے باوجود اپنی تحریک جاری رکھے ہوئے ہیں۔ درجنوں افراد کو اس تحریک میں ہراول دستے کا کردار ادا کرنے کی پاداش میں حراست میں بھی لیا گیا ہے۔
تحریک فتح کے سوا فلسطین کی تمام دیگر سیاسی اور مذہبی جماعتوں سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے گروپوں نے اساتذہ تحریک کی حمایت کرتے ہوئے ان کے تمام جائز مطالبات تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اساتذہ کے نمائندوں اور حکومت کے درمیان متعدد بار مذاکرات بھی ہوئے ہیں مگر فلسطینی اتھارٹی یقین دہانیوں کے بعد پھر مکرجاتی ہے۔
