رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم مرکز برائے اسیران اسٹڈی سینٹر کے ترجمان اور شعبہ اطلاعات کے انچارج ریاض الاشقر نے میڈیا کو بتایا کہ رواں سال کے پہلے چند ہفتوں کے دوران صہیونی انتظامیہ کی جانب سے فلسطینیوں کو انتظامی حراست کی دی جانے والی سزاؤں میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ رواں سال کے پہلے ڈیڑھ مہینوں میں 191 فلسطینیوں کو انتظامی حراست کی سزائیں دی گئیں۔ ان میں سے نصف شہریوں کو رواں سال ہی حراست میں لیا گیا اور باقی نصف پہلے سے انتظامی حراست کے تحت پابند سلاسل ہیں جن کی انتظامی قید میں مزید چھ ماہ کے لیے توسیع کردی گئی۔
خیال رہے کہ اسرائیل طویل عرصے سے فلسطینیوں کو انتظامی حراست کے قانون کے تحت پابند سلاسل کرتا چلا آر ہا ہے۔ برطانوی استبدادیت کی باقیات اس قانون کے تحت کسی بھی فلسطینی کو بغیر کسی الزام یا مقدمہ چلائے چھ ماہ کے لیے جیل میں ڈالا جاسکتا ہے اور بعد ازاں ہر چھ ماہ بعد باربار اس حراست میں توسیع کی جاسکتی ہے۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اسرائیل کی فلسطینیوں کو انتظامی حراست میں ڈالے جانے کی سزاؤں کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دے چکی ہیں۔
ریاض الاشقر نے بتایا کہ رواں سال اسرائیلی فوجی عدالتوں سے 103 نئے فلسطینیوں کو انتظامی حراست کے تحت جیل بھیجا گیا۔ 88 فلسطینیوں کی انتظامی حراست میں توسیع کی گئی۔ ان میں سے بعض کی مدت حراست میں تین ماہ اور بعض کی چار اور چھ ماہ کے لیے حراستی مدت میں توسیع کی گئی ہے۔ بعض قیدیوں کی مدت حراست میں ساتویں بار توسیع کی گئی۔ انتظامی حراست کے اعتبار سے الخلیل سے تعلق رکھنے والے شہری سب سے زیادہ ہیں۔یوں رواں سال انتظامی حراست کی سزا کے تحت پابند سلال رکھے گئے الخلیل کے شہریوں کی تعداد 71 ہے جو کہ کل اسیران کا 37 فی صد ہے۔ ان میں فلسطینی رکن پارلیمنٹ حاتم قفیشہ، سابق وزیر عیسیٰ الجعبری بھی شامل ہیں۔ رام اللہ سے 33 ، نابلس سے 24 ، جنین سے 15 فلسطینیوں کو انتظامی حراست کے تحت پابند سلاسل کیا گیا۔
