(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) قابض صہیونی فورسز نے مقبوضہ فلسطین کے سنہ 1948 ء کے علاقوں میں قائم سماجی اور عوامی بہبود کے لیے کام کرے والے اداروں اور این جی اوز کے دفاترپر چھاپے مارےہیں اور متعدد فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جمعرات کو قابض صہیونی فوجیوں نے ام الفحم شہر میں قیدیوں کی بہبود کے لیے کام کرنے والے ادارے’’یوسف الصدیق‘‘ کے صدر دفتر پرچھاپہ مارا اور دفتری سامان کی توڑپھوڑ کے بعد تنظیم کے ایک سینیر رکن فراس العمری کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔تنظیم کے ترجمان محمود لویسی نے بتایا کہ اسرائیلی پولیس اور انٹیلی جنس اہلکاروں نے ’’یوسف الصدیق‘‘ فاؤنڈیشن کے دفتر پرچھاپہ مارا۔ دفتر کا تمام ریکارڈ تلف کرنے کے بعد وہاں پر رکھے کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ قبضے میں لے لیے۔ دفتر میں موجود تنظیم کے مرکزی عہدیدار فراس العمری کو گرفتار کرکے اپنے ساتھ لےگئے۔
انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے یوسف الصدیق فاؤنڈیشن کے الناصرہ شہر میں دفتر پربھی چھاپے مارے اور وہاں سے بھی کمپیوٹرقبضے میں لے لیے گئے ہیں۔
ادھر حیفا شہر سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیاہے کہ یتیم بچوں اور بیواؤں کی بہبود کے ادارے زھرہ الکرمل کے دفترپربھی چھاپہ مارا گیا اور دفتر کی توڑپھوڑ کے بعد قیمتی سامان اور ریکارڈ قبضے میں لے لیا گیا۔
ایک دوسری مقامی تنظیم ’’الصدقہ الجاریہ‘‘ کے عہدیداروں نے بھی بتایا ہے کہ ان کے دفتر پر اسرائیلی پولیس اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے چھاپے مارے ہیں۔ ادھر اسرائیلی پولیس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے ان تنظیموں اور اداروں کے خلاف کارروائی شروع کی ہے جو فلسطینی شہروں میں کالعدم قرار دی گئی اسلامی تحریک کے زیرانتظام چل رہے ہیں۔ اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ اسلامی تحریک کو خلاف قانون تنظیم قرار دے کر اس پرپابندی عائد کردی گئی ہے اور اس کے تمام ذیلی اداروں پربھی پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔
