رپورٹ کے مطابق حال ہی میں اسرائیلی فوجیوں نے بیت المقدس میں ایک فلسطینی بچی کو گولیاں مار کر اسے سڑک پرپھینک دیا، جس کے نتیجے وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں تھی۔ اس موقع پر 50 سالہ معذور فلسطینی ماجد الفاخوری اپنی وہیل چیئرگھسیٹ کر اس کی طرف جانے لگا مگر صہیونی درندوں نے اس کی معذوری کا بھی خیال نہ کیا اور اسے اٹھا کر اس کی وہیل چیئرکے اوپر پٹخ دیا، جس کے نتیجے میں معذور شہری کو سخت چوٹیں آئی ہیں۔
عالمی ذرائع ابلاغ بالخصوص سوشل میڈیا پر اس واقعے کی تصاویر اور فوٹیج کو بڑے پیمانے پر شیئر کیا جا رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ صہیونی فوج کی درندگی کی شدید الفاظ میں مذمت کی جارہی ہے۔
اسرائیل کے عبرانی اخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایک معذور فلسطینی کو کے ساتھ ہماری فوج کے اس وحشیانہ سلوک پراسرائیلی قوم بھی شرمندہ ہے۔ اسرائیلی عوام اس مجرمانہ واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتی ہے۔
عبرانی اخبار نے اسپتال میں زیرعلاج ماجد الفاخوری سے رابطے کی بھی کوشش کرتے ہوئے ان کا رد عمل بھی معلوم کرنے کی کوشش کی ہے۔ الفاخوری کا کہنا ہے کہ میرے ساتھ جو کچھ ہوا اس کا کوئی دکھ نہیں کیونکہ میری قوم کے بچوں، خواتین اور بوڑھوں کے ساتھ اس سے بھی بدتر ہو رہا ہے۔
برطانوی اخبار نے اپنے اداریے میں اس واقعے کو جگہ دی ہے اور لکھا ہے کہ ایک چودہ سالہ زخمی بچی کی مدد کی پاداش میں اسرائیلی فوجی افسر کی جانب سے معذور فلسطینی پر تشدد اسرائیلی فوج کی فلسطینیوں کے خلاف نفرت کا عکاس ہے۔
برطانیہ کے ایک دوسرے اخبار نے اس واقعے کو صہیونی وحشت و بربریت اور بزدلانہ اقدام قرار دیا۔
