(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی جیلوں میں 85 دن سے مسلسل بھوک ہڑتال کرنے کے نتیجے میں جاں بلب فلسطینی صحافی محمد القیق کے ساتھ اظہار یکجہتی میں غزہ کے مقامی صحافیوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور مظاہرے کے دوران جنیوا معاہدوں کی کاپیاں بھی نذرآتش کیں۔
رپورٹ کے مطابق غزہ کی پٹی میں منگل کے روز صحافیوں اور سول سوسائٹی کے سیکڑوں کارکنوں نے بھوک ہڑتالی صحافی محمد القیق کے ساتھ یکجہتی کےلیے ریلی نکالی مظاہرین نے ہاتھوں میں القیق کی تصاویر اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر القیق کی فوری رہائی کے مطالبات درج تھےاس موقع پر مقررین نے انسانی حقوق اور آزادی صحافت کی علم دار عالمی تنظیموں کےمنفی کردار پربھی کڑی تنقید کی اور کہا کہ اگر القیق کا تعلق کسی یورپی ملک سے ہوتا تو اس وقت پوری دنیا میں ہنگامہ برپا ہوتا مگر اس کا تعلق مظلوم فلسطینی قوم سے ہے۔ اس لیے نام نہاد عالمی ادارے اور انسانی حقوق کے چیمپین القیق کو سسک سسک کر جان دینے کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔
خیال رہے کہ فلسطینی صحافی اور سعودی عرب کے المجد ٹی وی کے نامہ نگار 33 سالہ محمد اسامہ القیق گذشتہ 85 روز سے اپنی بلا جواز انتظامی حراست کے خلاف بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ القیق کی جسمانی حالت نہایت تشویشناک ہے۔
فلسطینی صحافتی تنظیموں اور انسانی حقوق کے مندوبین نے یورپی یونین، اقوام متحدہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسے عالمی اداروں کے کردار کو تنقید کا نشانہ بنایاتے ہوئے ان کے رویے کو جانب دارانہ قرار دیا۔
فلسطینی صحافیوں نے یورپی برادری سے اور عالمی ذرائع ابلاغ سے مطالبہ کیا کہ وہ القیق کی زندگی بچانے کے لیے اس کی آواز کو پوری دنیا تک پہنچانے کے لیے اپنا اخلاقی فرض ادا کریں۔ مقررین کا کہنا تھا کہ عالمی اداروں کی مجرمانہ خاموشی اسرائیلی جرائم پرپردہ ڈالنے کی مذموم کوشش ہے۔
