(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین میں یکم اکتوبر 2015 ء کے بعد سے اب تک قبلہ اوّل کے دفاع اور صہیونی ریاست کے مظالم کے خلاف جاری تحریک انتفاضہ کے دوران 180 فلسطینیوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق فلسطینی شہداء کے خاندانوں پر مشتمل سوسائٹی کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کل اتوار کے روز مغربی کنارے کے شہروں جنین اور بیت لحم اور بیت المقدس میں صہیونی فوج کی فائرنگ سے پانچ فلسطینی شہید ہوئے جس کے بعد انتفاضہ القدس میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد ایک سو اسی ہوگئی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ روز اسرائیلی ریاستی دہشت گردی میں مزید تین بچے شہید کیے گیے جس کے بعد انتفاضہ القدس میں شہید ہونے والے بچوں کی تعداد 49 ہوگئی ہے۔ اسرائیلی دہشت گردی کے نتیجے میں گذشتہ ساڑھے پانچ ماہ میں 17 فلسطینی خواتین بھی شہید ہوئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق رواں ماہ فروری میں اب تک 13 فلسطینیوں کو شہید کردیا گیا۔ ان میں چھ بچے اور ایک سترہ سالہ لڑکی کلزار العویوی شامل ہے۔ یوں فروری کے دوران اسرائیلی دہشت گردی کا نشانہ بننے والوں میں 46 فی صد بچے ہیں۔
صہیونی فوج نے شہید کئے گئے دسیوں فلسطینیوں میں سے 11 شہداء کے جسد خاکی ابھی تک حراست میں ہیں۔ ان شہداء میں ثائر ابو غزالہ، حسن مناصرہ، بہاء علیان، علاء ابو جمل، معتز عویسات، محمد نمر، عمر اسکافی، عبدالمحسن حسونہ، مصعب الغزالی، عمرعمرو اور منصور شوامرہ کے نام شامل ہیں۔
