رپورٹ کے مطابق اتوار کے روز صہیونی فوجیوں نے جنین کے مغربی قصبے الطرم میں ایک چوکی کے قریب گولیاں مار کر شہید کردیا۔
اسرائیلی ریڈٰیو نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں فلسطینی لڑکوں اور اسرائیلی فوجیوں کے درمیان مسلح جھڑپ ہوئی تھی۔ فوجیوں کی فائرنگ کی زد میں آ کر دونوں فلسطینی لڑکے جاں بحق ہو گئے۔
ادھر فلسطینی محکمہ صحت نے دونوں شہید ہونے والے دونوں بچوں کی شناخت جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ شہید ہونے والے بچوں کی عمریں 15 سال ہیں اور ان کے نام نہاد رائد محمد واکد اور فواد مروان خالد واکد بتائے جاتے ہیں۔ دونوں آپس میں ایک دوسرے کے قریبی عزیز ہیں۔
اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ فوجیوں کی جانب سے فلسطینی لڑکوں پر اس وقت گولیاں چلائیں جب انہیں ایک M16 رائفل اور ایک چاقو لے جاتے دیکھا گیا۔ فوجیوں نے ان کا تعاقب کیا تو انہوں نے بندوق سے گولیاں چلائیں تاہم فلسطینی لڑکوں کی فائرنگ سے کوئی اسرائیلی فوجی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔
خیال رہے کہ فلسطین میں گذشتہ برس اکتوبرکے بعد سے اب تک اسرائیلی فوج کی منظم ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں 177 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جن میں 39 کم عمربچے بھی شامل ہیں۔ جنین شہر سے شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 18 تک جا پہنچی ہے۔
واضح رہے کہ مسلمانوں کے قبلہ اوّل مسجد الاقصی پر صیہونیوں کے مسلسل حملے اور بے حرمتی کے خلاف فلسطینیوں نے گذشتہ اکتوبر کے مہینے سے انتفاضہ قدس شروع کر رکھی ہے۔
