(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) صہیونی فوج نے فلسطین کے علاقے مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل میں العروب پناہ گزین کیمپ میں ایک کارروائی کے دوران مزید ایک فلسطینی بچے کو شہید کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق فلسطینی وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ فرعون صفت صہیونی دہشت گردوں کی کارروائی میں شہید ہونے والے فلسطینی بچے کی شناخت عمر یوسف جوابرہ کے نام سے کی گئی ہے جس کی عمر 16 سال بیان کی جاتی ہے اور اس کا آبائی تعلق العروب کیمپ سے ہے۔وزارت صحت کے مطابق عمر یوسف جوابرہ اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے شدید زخمی ہوا تاہم بد ازاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔
رپورٹ کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا کہ بدھ کو العروب کیمپ میں فلسطینی شہریوں نے ایک احتجاجی جلوس نکالا۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اسرائیلی وحشیوں نے نہتے شہریوں پر براہ راست فائرنگ کی جس کے نتیجے میں گولیاں لگنے سے الجوابرہ کی موت واقع ہوگئی۔
عینی شاہدین نے بتایا ایک اسرائیلی نشانہ باز نے تاک کر یوسف جوابرہ کے پیٹ میں گولی ماری جو اس کی کمر سے باہر نکل گئی، زخمی بچہ کچھ دیر موت وحیات کی کشمکش میں رہنے کے بعد دم توڑ گیا۔
ہلال احمر فلسطین کا کہنا ہے کہ بچے کو شدید زخمی حالت میں الخلیل شہر میں المیزان اسپتال لے جایا گیا مگر وہ کچھ ہی دیر میں دم توڑ گیا۔
دوسری جانب قابض صہیونی فوج نے حسب معمول شہید فلسطینی بچے پر چاقو کے حملے کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کرکے مجرموں کو بچانے کی مذموم کوشش کی ہے۔ قابض فوج کا دعوی ہے کہ الجوابرہ کو اس وقت گولی ماری گئی جب اس نے ایک فوجی اہلکار پر چاقو سےحملے کی کوشش کی تھی تاہم عینی شاہدین اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے صہیون فوج کا دعویٰ جھوٹ کا پلندہ قرا دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔
خیال رہے کہ فلسطین میں پچھلے سال یکم اکتوبر کے بعد سے جاری تحریک انتفاضہ میں قابض فوج کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں 174 فلسطینی شہید اور 16 ہزار سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔
