رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکومت مسجد اقصیٰ کی مغربی سمت میں مسجد سے محض چند میٹرکے فاصلے پر زیرزمین ایک تاریخی معبد تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔ یہ معبد حمام العین کے مقام پر تعمیر کیا جا رہا ہے جو قبلہ اول کی وقف اسلامی املاک کا حصہ ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت اور معبد کے مالی معاونین آئندہ موسم بہار میں یہودیوں کے مذہبی تہواروں کے دوران منصوبے کے لیے سرمایہ کاری کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہودی معبد اسلامی اوقاف کی اراضی پرتعمیر کیا جا رہا ہے۔ بہت جلد اس منصوبے کے تعمیراتی کام شروع کیا جائے گا۔ معبد کی تعمیر کے لیے کھدائی کا کام شروع کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں ماہرین کی آراء اور منصوبے کی فیزیبیلٹی رپورٹ بھی تیاری کے مراحل میں ہے۔
رپورٹ کے مطابق منصوبے کی نگرانی وزیراعظم کے دفتر کے ماتحت ’’دیوار گریہ ارتھ فنڈ‘‘ کو سونپی گئی ہے تاہم اس کے لیے فنڈنگ یہودی ارب پتی ’’یتزحاق چوفا‘‘ کریں گے۔ اس منصوبے کا خاکہ اور ڈیزان سب سے پہلے انہوں نے ہی پیش کیا جسے حکومت کی جانب سے منظور کرلیا گیا تھا۔
یہودی معبد کے بارے میں جو تفصیلات موصول ہوئی ہیں ان میں بتایا گیا ہے کہ یہ معبد پرانے بیت المقدس میں حمام العین کے مقام پر دیوار براق اور مسجد اقصیٰ کی مغربی دیوار سے محض چند میٹر کے فاصلے شاہراہ الواد پر بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
جس مقام پر یہودی معبد کی تعمیر کے لیے منصوبہ تیار کیا گیا وہ جگہ خلافت بنو امیہ اور خلافت عثمانی کے ادوار میں مسجد اقصیٰ اور اس سے ملحقہ مقدس مقامات کے لیے وقف کی گئی تھی۔ ماضی کے ہر دور میں یہ جگہ قبلہ اول ہی کا حصہ قرار دی جاتی رہی ہے مگرصہیونی حکومت نے کچھ عرصے سے اس جگہ پر جعلی یہودی آثار کی موجودگی کی آڑ میں یہاں پر معابد کی تعمیر کا غیرقانونی سلسلہ شروع کردیا تھا۔
حال ہی میں اس مقام کی ایک فوٹیج بھی حاصل کی ہے جس میں اموی اور عثمانی دور کی بنی امارات کے کھنڈرات دکھائے گئے ہیں۔ ان کھنڈرات کی جگہ 400 مربع میٹر تک پھیلی ہوئی ہے اور وہاں مختلف سائز کے پتھر موجود ہیں جو اسلامی ادوار کی نشاندہی کرتے ہیں مگرصہیونیوں نے تاریخی اسلامی کھنڈرات کو یہودیوں کے آثار قدیمہ کی باقیات قرار دے کر تاریخ کو مسخ کرنے کی گھناؤنی سازش کررہے ہیں۔
