رپورٹ میں بتایا ہے کہ حکومت مشرقی بیت المقدس میں ‘‘ابو طور’’ نامی ایک یونانی آرتھوڈوکس چرچ کی اراضی کو یہودی آباد کاروں کے لیے مکانات کی تعمیر میں استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ چرچ کی اراضی پر جدید طرز تعمیر کی عمارتیں بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جن میں یہودیوں کے لیے رہائشی فلیٹس پر مشتمل پلازے بھی شامل ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بیت المقدس میں کئی دوسرے مقامات پر بھی یہودی کالونیاں بنانے کی تیاریاں کی جا رہیں۔ ان میں دیر قدیم کے علاقے میں یہودی کالونی کا قیام بھی شامل ہے۔ یہودیوں کا دعویٰ ہے کہ دیر قدیم میں ایک سرکردہ یہودی کاہن کی قبر ہے اور وہاں یہودیوں کو آباد ہونے کا حق حاصل ہے۔
رپورٹ کے مطابق یونانی آرتھوڈوکس چرچ کی زمین کے 10 دونم علاقے پر متعدد ریستوران بھی بنائے جائیں گے جن کے لیے بیرون ملک کے یہودی سرمایہ کاری کریں گے۔ یہ اراضی انہیں 100 سال کی لیز پر دی جائے گی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جب سے صہیونی حکومت کی جانب سے چرچ کی زمین کو یہودی کالونی میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا اس کے بعد مقامی عیسائی رہنماؤں نے احتجاج شروع کیا ہے۔ علاقے کی 400 نمائندہ شخصیات صہیونی حکام کو ایک احتجاجی مکتوب ارسال کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہودی کالونی کے قیام سے تاریخی چرچ کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ لہٰذا اس مقام پر کسی قسم کی تعمیرات نہ جائیں تاہم حکومت کی طرف سے مقامی مسیحی آبادی کو کسی قسم کا جواب نہیں دیا گیا ہے۔
