رپورٹ میں بتایا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع فلسطین کے غزہ کی پٹی کے علاقے میں کھودی گئی سرنگوں کی نشاندہی اور انہیں تباہ کرنے میں اسرائیل کی بھرپور معاونت کے لیے تیار ہے۔
رپورٹ میں اسرائیلی وزارت دفاع کے شعبہ پولیٹیکل سیکیورٹی کے سربراہ عاموس گیلاد کا ایک بیان بھی نقل کیا ہے جس میں انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ امریکی حکومت تل بیب کو غزہ میں سرنگوں کی نشاندہی اور ان کی مسماری کے لیے معاونت کے لیے تیار ہے۔ پینٹاگون نے اس مقصد کے لیے ایک سو ملین ڈالر کی رقم اور بھاری مقدار میں جدید ٹیکنالوجی بھی فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
قبل ازیں اسرائیلی اخبارات نے انکشاف کیا تھا کہ امریکی وزارت دفاع "پینٹا گون” نے اسرائیل کے ساتھ جدید اورغیر روایتی ہتھیاروں کی ایک ڈیل کی منظوری دی ہے جس کے تحت صہیونی ریاست کو "لیزگائیڈڈ” میزائل بنکر بسٹربم فراہم کیے جائیں گے۔
رپورٹ کے مطابق حال ہی میں امریکی کانگریس نے اسرائیل کو 750 بنکر شکن بم 3000 "ہالپر” نامی لیزرگائیڈڈ میزائل اور GPS سسٹم سے داغے جانے والے ہزاروں دوسرے مزائل فراہم کرنے کی منظوری دی ہے۔
خیال رہے کہ امریکی حکومت کی جانب حال ہی میں جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ واشنگٹن اسرائیل کی ہردفاعی ضرورت پوری کرنے میں بھرپورتعاون جاری رکھے گا۔ امریکی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی سلامتی کاخیال رکھنا واشنگٹن کی ذمہ داری ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کےدرمیان اسلحہ کی جو تازہ ڈیل طےپائی ہے اس کا تخینہ 1 ارب، 87 کروڑ 9 لاکھ ڈالر ہے۔معاہدے کے تحت امریکا اسرائیل کو زیرزمین سرنگوں کی تلاش کے لیے استعمال ہونے والے 14 ہزار 500 گائیڈ سسٹم بھی فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ "جی پی ایس” نامی "ایم کے 84 ، ایم کے 83 اور ایم کے 82 ” نامی 700 سسٹم فراہم کرے گا۔ معاہدے میں "بی ایل یو 109 ” نامی بم زیرزمین مضبوط ترین بنکوں کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ معاہدے کے تحت امریکا اسرائیل کو "بی ایل ایو 113 ” ماڈل کے تین ہزار میزائل فراہم کرے گا۔ فضاء سے فضاء میں مار کرنے والے "ہیل فائر” نامی 250 میزائل بھی صہیونی ریاست کو فروخت کیے جائیں گے۔
