(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے فوج کو فلسطینی مزاحمت کاروں اور یہودیوں پر چاقو سے حملہ کرنے میں ملوث قرار دیے گئے شہریوں کے مکانات مسمار کرنے میں تیزی لانے کی ہدایت کی ہے۔
اسرائیل کے عبرانی ریڈیو نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کے بعض متعلقہ اداروں کی جانب سے فلسطینی مزاحمت کاروں کے مکانات کی مسماری میں دلچسپی نہ دکھانے پر نیتن یاھو سخت برہمی کا اظہار کیا ہے اور انہیں ہدایت کی ہے کہ وہ یہودیوں پر قاتلانہ حملے کرنے والے فلسطینیوں کے مکانات مسمار کرنے میں تیزی لائیں۔رپورٹ کے مطابق منگل کو نیتن یاھو کی زیرصدارت اہم اجلاس بھی ہوا جس میں اسرائیل میں امن وامان کی صورت حال کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعظم نے فوج اور دیگر متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ فلسطینی مزاحمت کاروں کے مکانات کی مسماری میں کسی قسم کی سستی کا مظاہرہ نہ کریں۔
خیال رہے کہ صہیونی حکومت کی جانب سے فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری میں تیزی لانے کی نیتن یاھو کی ہدایت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پچھلے چند ہفتوں کے دوران غرب اردن اور بیت المقدس میں صہیونی فوج فلسطینیوں کے سات مکان مسمار کرچکی ہے جب کہ 90 مکانوں کی مسماری کی تیاری جاری ہے۔
اسرائیلی حکومت کی جانب سے فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری کا سلسلہ سنہ 1967 ء کے بعد سے جاری ہے۔ سنہ 1987 ء اور 2000 ء میں شروع ہونے والی فلسطینی تحریک انتفاضہ کے دوران فلسطینی مزاحمت کاروں کے مکانات مسماری میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
