القیق کے اہل خانہ نے اسرائیلی ملٹری پراسیکیوٹر کے فیصلے کو بھوک ہڑتالی قیدی کی سزائے موت ک پروانہ قرار دیتے ہوئے اس کے تمام نتائج و عواقب کی ذمہ داری صہیونی حکومت اور فوج پر عائد کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق منگل کو الخلیل میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھوک ہڑتالی فلسطینی اسیر کے اہل خانہ نے صہیونی پراسیکیوٹر کے اس فیصلے کومسترد کردیا جس میں عدالت سے استدعاکی گئی ہے کہ وہ القیق کی قید کی سزا کو اس کی بھوک ہڑتال کے باجود بقرار رکھے۔
صحافی کے اہل خانہ نے کہا کہ اسرائیلی پراسیکیوٹر کا فیصلہ القیق کو موت سے دو چار کرنے یک منظم کوشش معلوم ہوتا ہے۔ اس طرح کے غیرقانونی دباؤ سے القیق کی بھوک ہڑتال ختم نہیں کی جاسکتی ہے۔ وہ رہائی تک اپنے مطالبات پرقائم رہے گا۔
جنوبی الخلیل میں دورا کے مقام پر نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھوک ہڑتالی صحافی محمد القیق کے اہل خانہ کے کہا کہ ان کے بیٹے کی اسرائیلی جیل میں حالت نہایت تشویشناک ہے۔ 70 دن سے جاری بھوک ہڑتال کے باعث اس کی زندگی کو سنگین خطرات لاحق ہوچکے ہیں۔ انہیں القیق کے بارے میں ان کے وکیل کے ذریعے جو آخری اطلاعات ملی ہیں ان میں بتایا گیا ہے کہ القیق قوت گویائی اور سماعت کی صلاحیت بھی کھوہ چکے ہیں اور ان کا دو تہائی وزن کم ہوچکا ہے۔ اس کے باوجود وہ بھوک ہڑتال جاری رکھنے پر مصر ہیں۔
اہل خانہ نے فلسطینی صدر محمود عباس ور وزیراعظم رامی الحمد للہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک فلسطینی طبی وفد فوری طورپر العفولہ اسپتال روانہ کریں جو القیق کی طبی حالت کا معائنہ کرنے کے بعد اسے لاحق خطرات کے بارے میں آگاہ کرے کیونکہ اسرائیلی جیل انتظامیہ اور اسپتال کا عملہ بھی القیق کی حالت کے بارے میں حقائق مسخ کررہا ہے۔
محمد القیق کے اہل خانہ نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ بھوک ہڑتالی صحافی کی جان بچانےمیں اس کی مدد کریں اور اسرائیل پر اس کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالیں۔
