(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین کی القدس انٹرنیشنل یونیورسٹی نے الزام عائد کیا ہےکہ اسرائیل فلسطین کے تاریخی حقائق مسخ کرتے ہوئے بین الاقوامی قوانین کی سنگین پامالیوں کا مرتکب ہو رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق القدس یونیورسٹی کےچیئرمین عماد ابو کشک نے کہا ہے کہ مشرقی بیت المقدس کے ابو دیس قصبے میں واقع یونیورسٹی کے کیمپس پر اسرائیلی فوجیوں نے چھاپہ مار کارروائی کرکے نہ صرف وہاں طلباء اور اساتذہ کو ذدو کوب کیا بلکہ جامعہ کا ریکرڈ بھی قبضے میں لینے کی مذموم کوشش کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ صہیونی ریاست ایک منظم پالیسی کے تحت فلسطینی تعلیمی ادروں کو انتقام ک نشانہ بنا رہی ہے۔عماد ابو کشک نے بتایا کہ صہیونی فورسز نے بیت المقدس کے مشرق میں ابو دیس کے مقام پر جامعہ کے ایک کیمپس پرحملہ کیا اور وہاں توڑپھوڑ کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابو دیس میں پیش آنے والا واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس نہیں ہے۔ اس سے قبل صہیونی فوجی مغربی کنارے اور بیت المقدس میں القدس یونیورسٹی پرحملے کرچکے ہیں۔ انہوں نے یونیورسٹی پرحملے کو فلسطینی نظام تعلیم پرحملہ قرار دیا۔
عماد ابو کشک کا کہنا تھا کہ صہیونی ریاست ایک مکمل پالیسی کے تحت فلسطینی تعلیمی اداروں کو انتقامی کارروائیوں ک نشانہ بنا رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل فلسطین میں اںسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قوانین کی بھی سنگین خلاف ورزیاں کررہا ہے۔
