رپورٹ کے مطابق ’’اونروا‘‘ کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ غزہ جنگ کے دوران برسائے گئے بارودی مواد کا 70 فی صد ابھی تک تلف نہیں کیا جاسکا ہے جو فلسطینیوں کے لیے سنگین خطرے کا موجب ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ کے مختلف علاقوں میں 7 ہزار مختلف اقسام کے بم اور باردی مواد سے بھرپو آئٹم موجود ہیں۔ ان کے اتلاف کا سلسلہ جاری ہے مگردو سال میں صرف 30 فی صد مواد ہی کو تلف کیا جاسکا ہے جب کہ 70 فی صد مواد تلف کرنا ابھی باقی ہے۔ یہ مواد غزہ کی پٹی میں کسانوں اور بچوں کے لیے یکساں خطرے کا موجب ہے۔
اونروا کا کہنا ہے پچھلے دو سال میں غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں پھیلے بارودی مواد کے پٹھنے سے 16 فلسطینی جاں بحق اور 38 بچوں سمیت 90 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے زیرانتظام بارودی سرنگوں اور دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنانے کے ذمہ دار ادارے’’ UNMAS ‘‘ کے دسیوں اہلکار روز مرہ کی بنیاد پر غزہ میں پھینکے گئے بارود کو ناکارہ بنانے میں مصروف ہیں۔ اس کےباوجود فلسطینی شہریوں کے سروں پر منڈ لاتے خطرات کا تدارک نہیں کیا جاسکا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ غزہ کی پٹی کے تباہ ہونے والے 40 فی صد مکانات کے ملبے میں ناکارہ ہونے والے بم اور میزائل ہوسکتے ہیں۔
غزہ کی پٹی میں فلسطینی محکمہ داخلہ کے انجینیر سکواڈ کا کہنا ہے کہ انہوں نے عالمی فلاحی اداروں کے تعاون سے اسرائیل کی طرف سے پھینکے گئے 90 ٹن بارودی مواد کو ناکارہ بنایا ہے۔
خیال رہے کہ سنہ 2014 ء کودوماہ کے دوران صہیونی فوج نے غزہ کی پٹی پر 60 ہزار 664 حملے کیے جس کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں 12 ہزار مکانات مکمل طورپر تباہ اور ایک لاکھ 60 ہزار مکانات جزوی طورپر متاثر ہوئے تھےان میں سے 60 ہزار مکانات ناقابل استعمال بتائے جاتے ہیں۔
