(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) رپورٹ کے مطابق اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے صہیونی حکومت کی ایک گھناؤنی سازش کا پتا چلایا ہے اور بتایا ہے کہ اسرائیلی حکومت سنہ 1948 ء کے مقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوں کے 50 ہزار مکانات مسمار کرنے کی تیاری شروع کی ہے۔
اسرائیل کے کثیرالاشاعت عبرانی اخبار نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ مقبوضہ فلسطین کے سنہ 1948 ء کے دوران قبضے میں لیے گئےعلاقوں میں قائم کردہ خصوصی کمیٹیوں کی فراہم کردہ سفارشات کی روشنی میں ایسے ہزاروں مکانات کی فہرست مرتب کی ہے جنہین کسی بھی وقت مسمار کیا جاسکتا ہے۔رپورٹ میں بتایا ہے کہ جن پچاس ہزار مکانات کی مسماری کی تیاریاں کی جا رہی ہیں ان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ یا تو اسرائیلی حکومت کی اجازت کے بغیر تعمیر کیے گئے ہیں یا زرعی اراضی پر بنائے گئے ہیں اس لیے ان کی مسماری لازمی قرار دی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں صہیونی ریاست کے عدالتی مشیر ’’یہودا فائنچائن‘‘ کا ایک بیان بھی نقل کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی پارلیمنٹ کے رکن ایرز کمنٹیسکی کی زیرقیادت قائم کردہ ایک کمیٹی نے ایسے پچاس ہزار مکانوں کی نشاندہی کی ہے جو سنہ 1948 ء کے عرب شہروں میں واقع ہیں مگران کی مسماری کے لیے سفارشات مرتب کی جا رہی ہیں۔ اسرائیلی رکن پارلیمنٹ کی زیرقیادت قائم کمیٹی پچھلے سال فروری میں قائم کی گئی تھی جس میں کئی شہروں میں فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری کو غیرقانونی قرار دیا گیا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرز کمنٹیسکی کی قیادت میں کمیٹی قائم ہی اس لیے کی گئی ہے تاکہ سنہ 1948 ء میں فلسطینیوں کے ایسے مکانوں کو تلاش کیا جاسکے جنہیں صہیونی انتظامیہ کے بہ قول غیرقانونی طورپر بنایا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صہیونی عدالتی مشیر نے بتایا ہے کہ فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری کا قانون پولیس کے ذریعے نافذ العمل ہوگا۔ غیرقانونی تعمیرات کرنے والے فلسطینیوں کے نہ صرف مکان گرائے جائیں گے بلکہ انہیں بھاری مالی جرمانے بھی کیے جائیں گے تاکہ وہ آئندہ اس طرح کی خلاف قانون تعمیرات نہ کرسکیں۔
