رپورٹ کے مطابق غزہ کی پٹی میں فلسطینی مزاحمتی، سیاسی اور مذہبی جماعتوں کا ایک اہم اجلاس ہوا جس میں رکن پارلیمنٹ حاتم قفیشہ پرصہیونی غنڈہ گردوں کے وحشیانہ تشدد کی مذمت اور بھوک ہڑتالی فلسطینی صحافی محمد القیق کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔
قبل ازیں فلسطینی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی تھی کہ اسرائیلی فوجیوں ںے الخلیل شہر میں رکن پارلیمنٹ حاتم قفیشہ کے گھر میں گھس کرانہیں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ بعد ازاں انہیں حماس کے ایک دوسرے رہنما اور سابق وزیر عیسیٰ الجعبری کو حراست میں لے لیا۔
القفیشہ کی گرفتاری سے قبل نامعلو شرپسندوں نے ان کے گھر کے باہرکھڑی ان کی گاڑی کو تیل چھڑک کر آگ لگا دی تھی۔
فلسطینی رکن پارلیمنٹ پر صہیونی فوج کے وحشیانہ تشدد کے خلاف فلسطین کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا ہے۔ غزہ کی پٹی میں ہونے والے اجلاس میں تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے حاتم القفیشہ پر تشدد کی مذمت کی اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے بھوک ہڑتالی صحافی محمد القیق کی بھی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ رکن پارلیمنٹ پر تشدد اور ان کی گرفتاری کے واقعے پر فلسطین میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی سخت احتجاج کرتے ہوئے صہیونی فوج کے طرز عمل کو غیرقانونی اور جمہوریت دشمنی قراردیا۔
خیال رہے کہ فلسطین رکن پارلیمنٹ حاتم قفیشہ 12 سال تک جب کہ عیسیٰ الجعبری 9 سال تک صہیونی دشمن کی جیل میں پابند سلاسل رہ چکے ہیں۔
