(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی جیلوں میں 60 دن سے بھوک ہڑتال کرنے والے صحافی محمد القیق کے اہل خانہ نے تمام فلسطینی سیاسی اور مذہبی جماعتوں، انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور عالمی برادری سے القیق کی رہائی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہفتے کے روز القیق کے اہل خانہ نے رام اللہ میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں القیق کی بھوک ہڑتال اور اس کے نتیجے میں اس کی زندگی کو درپیش خطرات سے آگاہ کیا۔ اسیر کے اہل خانہ کہا کہ القیق کی بھوک ہڑتال پوری فلسطینی قوم ، عرب ممالک، عالم اسلام اور عالمی برادری کےلیے لمحہ فکریہ ہے۔القیق کی رہائی اور اس کی بھوک ہڑتال ختم کرنا انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ہم عالمی اداروں اور بین الاقوامی برادری کے کردار کے منتظر ہیں۔نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسیر فلسطینی صحافی محمد القیق کی اہلیہ فیحا شلش نے فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کی توجہ بھی القیق کی بھوک ہڑتال کی جانب مبذول کرانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ القیق کی اسرائیل جیل سے رہائی میں فلسطینی اتھارٹی کلیدی کردار ادا کرسکتی ہے۔ اس لیے ہمارا فلسطینی اتھارٹی ، فلسطین کے انسانی حقوق کے اداروں، سیاسی جماعتوں اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے پرزور مطالبہ ہے کہ وہ القیق کی اسرائیلی زندانوں سے رہائی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
خیال رہے کہ محمد القیق کو پچھلے سال مغربی کنارے کے الخلیل سے حراست میں لیا گیا تھا۔ صہیونی حکام کی جانب سے القیق کو چھ ماہ کے لیے انتظامی قید میں ڈالنے کا حکم دیا گیا تو اس پرانہوں نے بھوک ہڑتال شروع کردی۔ القیق کی بھوک ہڑتال 61 روز میں جاری ہے۔ اس کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہوچکے ہیں۔ صہیونی جیلران کی بھوک ہڑتال ختم کرانے کے لیے زبردستی خوراک دینے کا مکروہ اور ظالمانہ حربہ بھی استعمال کرچکے ہیں مگر اسیر نے رہائی یا شہادت تک بھوک ہڑتال جاری رکھنے کا عزم کیا ہے۔
