رپورٹ کے مطابق رام اللہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدرعباس نے کہا کہ فلسطینی ایوان صدر کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم ہاؤس کے ساتھ دو بارہ ٹیلیفون رابطہ کیا گیا۔ یہ رابطہ اس لیے کیا گیا کہ میں اسرائیلی وزیراعظم سے ملاقات کرسکوں مگر اسرائیلی حکومت کی جانب سے کسی قسم کا جواب نہیں دیا گیا۔ ہم ملاقات کے لیے مندوبین کا تقرر کرنا چاہتے تھے مگر اسرائیلی حکومت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ایسا نہیں ہوسکا۔
ایک سوال کے جواب میں صدرمحمود عباس نے کہا کہ اسرائیلی حکومت سے رابطوں کی کوشش کے بارے میں کسی دوسرےملک کو مطلع نہیں کیا گیا۔ امریکا بھی ان رابطوں سےبے خبر ہے۔
رپورٹ کے مطابق صدر عباس کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا ہےکہ فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے مابین اعلیٰ سطح پر سیکیورٹی تعاون جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی سطح پر فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان کوئی رابطہ نہیں مگرفوج کے شعبے میں دوطرفہ تعاون اور رابطے معمول کے مطابق جاری و ساری ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں محمود عباس نے کہا کہ ہم آزادی کے لیے پرامن جدو جہد کے حامی ہیں مگر انتہا پسندی کی ہرشکل کی مذمت کرتے ہیں۔ ہم اسرائیل کے ساتھ جاری سیاسی تنازعات کو مذہبی جنگ میں تبدیل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔
صدر عباس نے کہا کہ وہ اسرائیل سے مذاکرات کے ذریعے امن وامان کے قیام اور فلسطینیوں کے منصفانہ حقوق کا مطالبہ کریں گے۔ سنہ 1967 ء کی جنگ سے قبل والی پوزیشن پراسرائیل کی واپسی اور بیت المقدس کے دارالحکومت پرمشتمل فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے بات چیت جاری رکھی جائے گی۔
انہوں نے فلسطینی قوم کے تحفظ اور ان کے حقوق کی فراہمی کے لیے عالمی امن کانفرنس بلانے کا بھی مطالبہ پیش کیا۔
اپنے نائب کے تقرری نہ کرنے وجہ پوچھے جانے پرصدر عباس نے کہا کہ اگر میری طبیعت نے ساتھ نہ دیا یا مجھے بہ وجوہ استعفیٰ دینا پڑا فلسطینی اتھارٹی کی سینٹرل کمیٹی خود ہی میری جگہ نئے فلسطینی صدر کا چناؤ کرے گی۔
