رپورٹ کے مطابق سپریم اسلامک فالو اپ کمیٹی کا حصہ سمجھی جانے والی اسلامی تحریک پراسرائیلی پابندیوں کے خلاف یہ تازہ مہم فلسطین سمیت کئی دوسرے ملکوں میں جاری ہے۔ مہم کےتحت اسلامی تحریک اور اس کے بیس ذیلی تعلیمی، سماجی، مذہبی اور طبی اداروں پرپابندیوں کے خلاف عالمی سطح پر آواز کو موثر بنانا ہے۔
حملے کے روح رواں پروفیسر ڈاکٹر توفیق محمد نے میڈٰیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے قانونی ماہرین سے مل کر ایک یاداشت تیار کی ہے جس میں اسلامی تحریک اور اس کے ذیلی اداروں پر پابندیوں کے اسرائیلی فیصلے کی مذمت کی گئی ہے۔ پٹیشن میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیاہے کہ وہ تحریک اسلامی پرعائد پابندیوں کا فیصلہ واپس لے اورتنظیم کو آزادانہ کام کی اجازت مہیا کرے۔
ڈاکٹر توفیق نے کہا کہ اسلامی تحریک پرعائد پابندیوں کے خلاف تیار کی گئی پٹیشن کا مقصد عالمی سطح پر صہیونی ریاست کے مظالم اور غیرقانونی پالیسیوں کو بے نقاب کرتے ہوئے فلسطینیوں کو انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
دس لاکھ افراد کی جانب سے پیٹیشن پر دستخط سے اسرائیل کا بدنما چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہوگا اور عالمی سطح پر صہیونی ریاست پر دباؤ میں بھی اضافہ ہوگا۔
خیال رہے کہ اسرائیلی حکومت نے دو ماہ قبل دفاع قبلہ اوّل کی مہم میں پیش پیش اسلامی تحریک اور اس کے تمام ذیلی اداروں پر پابندی عائد کر دی تھی۔ صہیونی ریاست نے الزام عائد کیا ہے کہ اسلامی تحریک اور اس کے دوسرے ماتحت ادارے فلسطین میں اسرائیل کے خلاف نفرت پرمبنی مہم کو ہوا دے رہے ہیں۔ اسلامی تحریک کے رہنما الشیخ رائد صلاح اور جماعت کے دیگر مرکزی قائدین نے صہیونی ریاست کے اس الزام کو مسترد کردیا ہے۔
