رپورٹ کے مطابق گذشتہ روز اسرائیل کی جیلوں میں قید رہنے والے فلسطینی شہریوں کی جانب سے سپریم کورٹ میں دی گئی درخواست کو سماعت کے لیے منٖظور کرلیا گیا ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ فلسطینی اسیران اوران کے اہل خانہ کے لیے منظور کردہ وظائف روکنا قانون کی صریح خلاف ورزی ہے کیونکہ فلسطینی قانون میں اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کے اہل خانہ کی مالی مدد کو لازم قراردیا گیا ہے۔
درخواست گذار سفیان جمجوم کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے ان کی درخواست سماعت کے لیے منٖظور کرتے ہوئے اسے قانونی پہلو سے دیکھنے کی یقین کرائی ہے۔ عدالت کی جانب مخالف فریق فلسطینی وزارت خزانہ اور محکمہ امور اسیران سے جواب طلب کیا ہے۔
سفیان جمجوم نے بتایا کہ وہ 20 سال سے زائد عرصے سے اسرائیلی جیلوں میں قید کاٹی۔ اس کے باوجود فلسطینی اتھارٹی نے ان کا ماہانہ وظیفہ بند کررکھا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ کی جان سے ان کی درخواست منظور کرتے ہوئے 23 فروری کو جواب طلب کیا ہے۔
سابق فلسطینی نے رام اللہ اتھارٹی کی پالیسی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی سابق اسیران کے معاملے میں لاپرواہی اور عدم توجہی کے ساتھ ساتھ زیادتی کا مظاہرہ کررہی ہے۔ فلسطینی اسیران کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے سابق اسیران کے روکے گئے وظائف فوری جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔
