رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی نایب وزیرخارجہ زیپی حوٹوبلی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ان کے ملک کی یہ پالیسی ہے کہ ایسے کسی بھی ملک کے وفد کو فلسطینی علاقوں میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی جو اسرائیل پر بلا جواز الزام عائد کرتے ہوئے تنازعات کو ہوا دے رہا ہو۔ سویڈن کےوزیرخارجہ نے حال ہی میں فلسطینیں کی حمایت کرتے ہوئے اسرائیل پر کڑی تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ اسرائیل فلسطینیوں کو ماورائے آئین قتل کررہا ہے۔ سویڈش وزیرخارجہ کا یہ بیان قابل قبول نہیں ہے۔ اسی بیان کے رد عمل میں ہم نے سویڈش وفد کے لیے اپنے ملک اور فلسطین میں داخلے کے دروازے بند کردیے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سویڈن کے متعدد سیاسی رہنما اور سفارت کار مقبوضہ فلسطین اور اسرائیل کا دورہ کرنا چاہتے تھے مگر صہیونی حکام نے تل ابیب میں قائم سویڈن کے سفارت خانے کو مطلع کردیا تھا کہ حکومت ان کے کسی بھی عہدیدار کو اسرائیل یا فلسطینی علاقوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے سکتا۔
خیال رہے کہ ایک ماہ قبل سویڈن کے وزیرخارجہ نے تحریک انتفاضہ کے دوران اسرائیلی فوج کی دہشت گردی کے نتیجے میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کے قتل کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے بیت المقدس اور مغربی کنارے میں اسرائیلی گولیوں کا نشانہ بنتے ہوئے شہادت کا رتبہ پانے والوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور تھا کہا تھا کہ اسرائیل فلسطینیوں کو ماورائے عالت قتل کررہا ہے۔
