اسیر کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ اس کے شوہر کی بھوک ہڑتال کو 49 دن ہوچکے ہیں۔ وہ پچھلے کئی دن سے مسلسل کومے میں ہیں۔ اسیر کے وکلاء نے خبردار کیاہے کہ اگر ان کی بھوک ہڑتال ختم نہ کی گئی تو حالت مزید بگڑ سکتی ہے جس کے نتیجے میں ان کی زندگی کو خطرات لاحق ہوں گے۔ وکلا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی جیل میں قید صحافی کا بایاں ہاتھ اس کی پیٹھ پر مسلسل باندھ کر رکھا گیا ہے۔
فیحا نے بتایا کہ محمد القیق کے وکیل اشرف ابو سنینہ نے کل اتوار کو جیل میں اپنے موکل کو بے ہوش حالت میں دیکھا ہے۔ وکیل کا کہنا ہے کہ القیق کی حالت تشویشناک ہے۔
اسیر کی اہلیہ فیحا شلش نے بتایا کہ اس کے شوہر کی حالت تشویشناک ہے۔ وہ پچھلے دو دن سے مسلسل کومے میں ہیں۔ اسرائیلی فوجیوں نے زبردستی ان کے خون کے نمونے حاصل کیے ہیں اور العفولہ جیل میں انہیں جبری خوراک دینے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
خیال رہے کہ فلسطینی صحافی محمد القیق کو صہیونی فوجیوں نے 24 نومبر 2015 ء کو حراست میں لیاتھا، جہاں انہیں انتظامی قید کے جیل میں ڈال دیا گیا۔ انہوں نے اپنی انتظامی قید کے خلاف بھوک ہڑتال کی توانہیں قید تنہائی میں ڈال دیا گیا۔ وہ اب بدستور قید تنہائی میں ہیں جہاں بھوک ہڑتال کے باعث ان کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔
صہیونی قید خانے میں پابند سلاسل فلسطینی صحافی کا پچاس دن سے مسلسل بھوک ہڑتال جاری رکھنا عالمی اداروں اور بین الاقوامی برادری کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے۔ محمد القیق کو عدالت میں پیش کرنے کے بجائے مسلسل جیل میں ڈالے رکھنا اور اسے بھوک ہڑتال پرمجبور کرنا صہیونی دہشت گردی اور بربریت کی بدترین مثال ہے ہی مگر یہ واقعہ عالمی برادری کی مجرمانہ غفلت کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔
