رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم ’’بتسلیم‘‘ کے دفتر پرآتش زدگی کے واقعے میں کم سے کم تین صہیونی زخمی ہوئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق بتسلیم کا دفتر بیت المقدس میں ایک کثیر المنزلہ عمارت میں واقع ہے۔ سوموار کو اس عمارت کی دوسری اور چوتھی منزل میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ آگ لگنے کی وجوہات معلوم نہیں ہوسکی ہیں۔ غالب امکان یہ ہے کہ آتش زدگی کا واقعہ کسی منظم سازش کا حصہ ہے۔
خیال رہے کہ ’’بتسلیم‘‘ نامی انسانی حقوق کی تنظیم فلسطین میں یہودی آباد کاروں کے فلسطینیوں کے خلاف حملوں کے حوالے سے اعدادو شمار جاری کرنے کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی پامالیوں کی روک تھام میں سرگرم ہے۔
رپورٹ میں پولیس کے حوالے سے ایک خبر میں بتایا ہے کہ بتسلیم کے دفتر میں آگ سوموار کو علی الصباح لگی۔ پولیس کا بھی کہنا ہے کہ آگ دانستہ طورپر لگائی گئی تھی۔
بتسلیم کی خاتون ترجمان کا کہنا ہے کہ غالب امکان ہے کہ انسانی حقوق گروپ کے دفترپرحملہ تنظیم کے خلاف اشتعال انگیز کارروائیوں کا نتیجہ ہوسکتا ہے کیونکہ تنظیم کی انسانی حقوق کے شعبے میں سرگرمیوں کی وجہ سے بعض شرپسند عناصر کی جانب سے دھمکیوں کا سامنا ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی میڈیا میں بھی بتسلیم کی سرگرمیوں کے خلاف اشتعال انگیز مہم جاری ہے۔ بتسلیم نے یورپی یونین کو بھی یہودی آباد کاروں کی اشتعال انگیز سرگرمیوں سے آگاہ کیا ہے۔ اس پریہودی آباد کاروں نے تنظیم کے دفاتر کو آگ لگانے کی دھمکیاں دی تھیں۔
