رپورٹ کے مطابق عباس ملیشیا نے جمعہ کے روز فلسطینی صحافی 52 سالہ سلیم سویدان کو حراست میں لینے کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا۔ ان پر قومی وحدت کو نقصان پہنچانے، فرقہ وارانہ نعروں کو فروغ دینے سمیت چھ الزامات عاید کیے گئے تھے۔ کل اتوار کو فلسطینی اتھارٹی کے پراسیکیوٹر جنرل نے سویدان کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 24 گھنٹے کی توسیع کی منظوری دیتے ہوئے ان کے خلاف تحقیقات جاری رکھنے کا حکم دیا تھا،
فلسطینی اتھارٹی کی ڈیفنس فورس نے سلیم سویدان کو ایک ٹی وی رپورٹ نشر کرنے کی پاداش میں حراست میں لیا ہے۔ عباس ملیشیا کا دعویٰ ہے کہ اس رپورٹ میں قومی وحدت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تھی اور اسے مزید مشتہر کرنے کے لیے انٹرنیٹ پربھی پوسٹ کیا گیا تھا
خیال رہے کہ سلیم سویدان نے اپنی رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ فلسطینی پولیس افسر نے ایتمار یہودی کالونی میں دو یہودیوں کو قتل کرنے کے ملزم کی اسپتال سے گرفتاری میں اسرائیلی فوج کی مدد کی تھی۔ اس پر عباس ملیشیا سخت برہم ہوئی اور اپنے پیٹی بھائی کے خلاف اس طرح کے الزمات کو قومی وحدت کے خلاف سازش قرار دے کر سرکردہ صحافی کوحراست میں لے لیا۔
