رپورٹ میں بتایا ہے کہ پچھلے ایک ماہ کے دوران فلسطینی صدر محمود عباس کے زیرکمانڈ سیکیورٹی اداروں اور اسرائیلی فوج کے درمیان دو طرفہ فوجی تعاون میں غیرمعمولی بہتری آئی ہے جس کے نتیجے میں فلسطینی مظاہرین کو حساس مقامات پرجانے سےروکنے کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔
فلسطینی اتھارٹی کی پولیس کی جانب سے اسرائیلی فوج کے ساتھ تعاون میں غیرمعمولی اضافے کے بعد مغربی کنارے میں یہودی کالونیوں اور فلسطینی آبادی والے علاقوں کو باہم ملانے والے مقامات پر مظاہرین کی رسائی مزید مشکل بنا دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیل کے خلاف پرتشدد مظاہروں پر اکسانے کے واقعات میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے چند ہفتے قبل پولیس اوراپنے ماتحت سیکیورٹی اداروں کو مغربی کنارے میں حالات معمول پرلانے کی ہدایت کی تھی اور کہا تھا کہ پولیس فلسطینیوں کواسرائیلی فوج کے خلاف جاری احتجاج سے روکیں۔
صدر عباس کی جانب سے ملنے والی ہدایات کے بعد عباس ملیشیا نے کریک ڈاؤن شروع کیا جس میں اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ اور اسلامی جہاد سمیت متعدد اہم مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو حراست میں لیا گیا۔
