(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں جمعرات کے روز اسرائیلی فوج کی جانب سے نہتے فلسطینیوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے دوران کم سے کم چودہ افراد کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جمعرات کو اسرائیل کی ملٹری پولیس نے مغربی کنارے اور بیت المقدس سے کم سے کم چودہ فلسطینیوں کو حراست میں لیا ہے۔ گرفتار کیے گئے فلسطینیوں میں سے بعض سیکیورٹی اداروں کو مطلوب افراد بھی شامل ہیں۔ ان میں سے آٹھ فلسطینیوں پر یہودی فوجیوں کے خلاف مزاحمتی کارروائیوں اور اسرائیلی تنصیبات پرحملوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ جمعرات کے روز بیت المقدس ، مغربی کنارے کے وسطی شہر رام اللہ کے سلواد قصبے، بدیا، مغربی سلفیت کے رنتیس قصبے اور دیگر مقامات پر تلاشی کے دوران اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘سے تعلق کے الزام میں متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا۔
بیت المقدس میں العیزریہ کے مقام سے دو فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا جب کہ الخلیل شہر سے بھی گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کی تلاشی کی کارروائیوں میں سلواد سے چھ فلسطینیوں کو حراست میں لیا گیا جن کی شناخت صالح انور سلیم، محمد عدنان حامد، عفیف عیاد، خالد عفیف عیاد اور نصارعلی کے ناموں سے کی گئی ہے۔
مغربی کنارے کے دیگر شہروں سے حراست میں لیے گئے شہریوں کی شناخت احمد عبد الجلیل حامد، حسن مرعی، دعاس حماد، محمد مرعی، نادر حامد، عبدلراؤف عطشہ، یوسف النجار، احمدالسراج، یاسر ابو زینہ، احمد عفیف، زیاد حامد، ایوب حامد علی نمر حامد، محمد نمر حامد اور دیگر کے ناموں سے کی گئی ہے۔ گرفتار کیے جانے والے شہریوں میں سے بعض کی عمریں 18 سال سے کم بتائی جاتی ہیں جب کہ متعدد طلباء بھی شامل ہیں۔
