رپورٹ کےمطابق سنہ 2014 ء اور 2015 ء کے دوران غزہ کی پٹی میں غربت کی شرح میں 2 فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گذارنے والے غزہ کے شہریوں کی تعداد 47 فی صد تک جا پہنچی ہے۔
رپورٹ میں فلسطین میں اسرائیلی پابندیوں کے نتیجے میں اقتصادی اور سماجی عدم تحفظ کا واضح ثبوت یہ ہے کہ صہیونی ریاست دانستہ طورپر غزہ کے عوام کو غذائی قلت سے دوچار کررہی ہے۔ اسرائیلی پابندیوں کے نتیجے میں غزہ کی پٹی کی زراعت اور معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے جس کے باعث 47 فی صد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گذارنے پرمجبور ہیں۔ پچھلے ایک سال کے دوران غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گذارنے والے آبادی کی تعداد میں مزید دو فی صد اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غذائی قلت کے شکار فلسطینی باشندوں کی آبادی کا تناسب 49 فی صد جب کہ پناہ گزینوں میں غربت کی شرح 45 فی صد تھی۔ سنہ 2013 ء اور 2014 ء کے دوران غزہ کی پٹی میں غربت کی شرح میں 3 فی صد اضافہ ہوا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 2015 ء کی تیسری چوتھائی میں بے روزگاری میں 42.7 فی صد اضافہ ہوا۔ ٹھیک ایک سال قبل اسی عرصے میں بے روزگاری کی شرح 1.2 فی صد کمی ہوئی تھی۔ پناہ گزینوں میں بے روزگاری کی شرح 43.3 فی صدریکارڈ کی گئی ہے۔
سال رواں کی چوتھی سہ ماہی میں خواتین میں بے روزگاری کی شرح میں 61.5 فی صد اضافہ ہوا جب کہ نوجوان بے روزگار فلسطینیوں کی تعداد 80 فی صد تک جا پہنچی ہے۔
