فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے میں حالیہ ایام میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے حملوں کے بعد بزدل یہودی ربیوں نے اپنے پیروکاروں کو مقبوضہ بیت المقدس میں داخل ہونے سے گریز کا مشورہ دیا ہے اور کہا ہے کہ یہودی آباد کار مسجد اقصیٰ اور دیوار براق کے قریب جانے سے
گریز کریں۔
اسرائیل کے عبرانی ٹی وی ” 2 ” نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ یہودیوں کے ایک سرکردہ مذہبی پیشوا "ادمور مستیگورا” نے اپنے پیروکاروں سے کہا ہے کہ وہ تا اطلاع ثانی دیوار براق اور مسجد اقصیٰ میں داخل نہ ہوں کیونکہ فلسطینی مزاحمت کاروں کی جانب سے ان پر قاتلانہ حملے کیے جاسکتے ہیں۔
ٹی وی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مسجد اقصیٰ پر دھاوے بولنے اور مذہبی رسومات کی مسجد اقصیٰ میں ادائیگی کے حوالے سے یہودی مذہبی رہنماؤں کے درمیان گہرے اختلافات پائے جا رہے ہیں۔ بعض یہودی ربیوں کا کہنا ہے کہ یہودی آباد کاروں کو حرم قدسی میں داخل ہو کر مذہبی رسومات کی ادائیگی کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے جب کہ بیشتر یہودی پیشواؤں کا مشورہ ہے کہ یہودی آباد کار موجودہ حالات میں مسجد اقصیٰ کے قرب وجوار میں بھی نہ جائیں کیونکہ ان کی جانوں کو خطرات لاحق ہوسکتےہیں۔
خیال رہے کہ پچھلے چار ایام میں مغربی کنارے اور بیت المقدس میں فلسطینی مزاحمت کاروں نے حملے کرکے چار یہودی آباد کاروں کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کردیا ہے۔ ان واقعات کے بعد یہودی مذہبی پیشواؤں نے نقل وحرکت میں محتاط رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔
