مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق بیت المقدس کے اسرائیلی میئر نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بعض فلسطینی حلقے اور فلسطینی مذہبی جماعتیں بیت المقدس میں موجودہ کشیدگی اور بدنظمی کی ذمہ دار ہیں۔ یہودیوں کے مذہبی تہواروں کے موقع پر فلسطینی ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسجد اقصیٰ کا رخ کرتے ہیں تاکہ یہودیوں کے ساتھ ان کا تصادم ہو اور حالات خراب ہونے کے بعد اسرائیل کو اس کا قصور وار ٹھہرایا جائے۔
نیر برکات نے فلسطینی شہریوں کے خلاف اسرائیلی فوج اور پولیس کے وحشیانہ کریک ڈائون کی حمایت کی اور کہا کہ پولیس اور فوج جو کچھ کررہی ہے وہ امن وامان کے قیام کے لیے ضروری ہے۔ کیونکہ فلسطینی قانون ہاتھ میں لے کر یہودیوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔ انہوں نے یہودی آباد کاروں کو فلسطینیوں کے حملوں کے رد عمل میں صبر سے کام لینے کا بھی مشورہ دیا۔
اسرائیلی میئر کا کہنا تھا کہ فلسطینی آئے روز مسجد اقصیٰ میں نماز کی ادائی کی آڑ میں شورش پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسرائیلی پولیس، فوج اور عام یہودی آباد کاروں پر حملے کرتے ہیں۔ ان کے خلاف فوج اور پولیس کا کریک ڈائون ضروری ہے۔ فلسطینیوں کوان کے کیے کی سزا مل رہی ہے۔ پولیس اور فوج کو فلسطینی دہشت گردی کے خلاف کسی قسم کی نرمی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔
صہیونی میئر کاکہنا تھا کہ مسجد اقصیٰ پر یہودیوں کی یلغار ان کا حق ہے اور پولیس یہودیوں کے حق کو محفوظ بنانے کے لیے فلسطینیوں کے خلاف کریک ڈائون کررہی ہے۔
