گذشتہ دو روز کے دوران صہیونی فوجی عین اس وقت صوتی بمباری شروع کرتے جب مسجد میں نماز کے لیے اذان ہو رہی ہوتی تھی۔ صوتی بموں کی گھن گرج اور دھماکوں کے نتیجے میں آذان کی آوازیں بھی دب جاتی ہیں۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے فلسطینی شہریوں کو قبلہ اول سے باہر نکالنے کے لیے ان پر زہریلی آنسو گیس کی شیلنگ کی جاتی ہے۔ گذشتہ دو دنوں کے دوران آنسو گیس کی شیلنگ کے نتیجے میں مسجد کے اندرونی ہال دن بھر دھوئیں سے بھرے رہے۔
آج تیسرے روز منگل کو بھی قابض فوجیوں نے حسب معمول فلسطینی نمازیوں کو مسجد اقصٰی سے باہرنکالنے کے لیے صوتی بموں کے ساتھ ساتھ آنسو گیس کی شیلنگ کی جس کے نتیجے میں نہ صرف شہری زخمی ہوئے ہیں بلکہ مسجد کے اندر کے تمام مقامات دھوئیں سےبھر گئے ہیں۔
